نیپال سیلاب : بنگال کے 36 عقیدت مند لاپتہ، اہل خانہ پریشان
کولکاتا، 27 اگست (ہ س)۔ نیپال میں بدھ کو آنے والے سیلاب میں مغربی بنگال کے 36 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے 32 لوگ اکیلے کولکاتا سے لاپتہ ہیں۔ کیلاش مانسروور یاترا پر گیا کولکاتا کے 32 لوگوں کا ایک گروپ نیپال سیلاب سانحہ کے بعد لاپت
WB-Nepal-floods-Kailash-Mansarovar-Pilgrims-Missin


کولکاتا، 27 اگست (ہ س)۔ نیپال میں بدھ کو آنے والے سیلاب میں مغربی بنگال کے 36 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان میں سے 32 لوگ اکیلے کولکاتا سے لاپتہ ہیں۔ کیلاش مانسروور یاترا پر گیا کولکاتا کے 32 لوگوں کا ایک گروپ نیپال سیلاب سانحہ کے بعد لاپتہ ہو گیا ہے۔ ان میں 30 عقیدت مند اور دو ٹریول منیجر شامل ہیں۔ ریاستی حکومت کے ایک اہلکار نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ اس کے علاوہ ہگلی ضلع کے چندن نگر اور تارکیشور اور بردوان اور باراسات سے چار افراد لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔

اہلکار کے مطابق یہ گروپ 21 اگست کو کولکاتا سے روانہ ہوا تھا اور اگلے دن نیپال پہنچا۔ بدھ کی صبح، یہ گروپ تبت کا سفر کرنے کے لیے رسواگڑھی پہنچا۔ صبح 8:30 بجے کے قریب، سبھی لوگ امیگریشن آفس میں تھے جب نیپال-تبت سرحد کے قریب اچانک سیلاب آگیا۔

اہلکار نے بتایا کہ سیلاب کی زد میں آنے کے بعد سے ٹیم کے کسی رکن سے رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مغربی بنگال کے ان تمام لوگوں سے رابطہ کرنے کی کوششیں جاری ہیں جو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ہو سکتے ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام بری طرح منقطع ہے جس سے لوگوں کو تلاش کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

کولکاتا کی ٹریول ایجنسی کی نمائندہ دیویا جیوتی باسو نے بتایا کہ نیپال میں سفر کے انتظامات کو سنبھالنے والی ایجنسی سے بھی رابطہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس گروپ میں ٹریول منیجر جینت سانیال اور نریپین سرکار بھی شامل ہیں۔ دونوں کے موبائل فون پر رومنگ کی صلاحیتیں تھیں اور ان سے آخری بار صبح 8 بجے کے قریب بات ہوئی تھی۔

باسو نے کہا کہ کچھ مسافروں نے اس وقت فیس بک پر لائیو نشر بھی کیا تھا۔ اس کے بعد سیلاب کی خبر سامنے آنے کے بعد سے کسی سے بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔ بین الاقوامی ٹریول ایجنسی نے متاثرہ علاقے کی تلاش کے لیے ایک ہیلی کاپٹر بھی بھیجا ہے۔

ریاستی حکومت کے اہلکار کے مطابق کولکاتا کے علاوہ ہگلی ضلع کے چندن نگر اور شمالی 24 پرگنہ ضلع کے باراسات کے کچھ لوگوں کے بھی نیپال میں پھنسے یا لاپتہ ہونے کا خدشہ ہے۔

مغربی بنگال کے وزیر اعلی شبھیندو ادھیکاری نے سیلاب سے ہونے والی اموات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفارت خانے اور نیپالی حکام سے رابطے میں ہے۔ حکومت نیپال میں پھنسے ہوئے ریاست کے سیاحوں، عقیدت مندوں، مزدوروں اور کاروباری افراد کی مدد کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

ریاستی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کی مدد کے لیے بھوانی بھون میں ریاستی پولیس ہیڈکوارٹر میں ہیلپ لائنیں قائم کی ہیں۔ اہل خانہ (033) 24793311 اور 9147890181 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

نیپال میں آنے والے سیلاب میں 100 کے قریب افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے جب کہ 750 سے زائد لاپتہ ہیں۔ ان میں 133 ہندوستانی شہری شامل ہیں۔ سیلاب نے متعدد قصبوں اور گاوں کو متاثر کیا ہے اور پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

نیپال کے وزیر خارجہ ششر کھنال نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ زلزلہ تبت کے علاقے میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8:37 پر آیا اور اس کے تین منٹ بعد سیلاب کی اطلاع ملی۔ شبہ ہے کہ زلزلے سے گلیشیئر ٹوٹ گیا، جس کی وجہ سے سیلاب نے نیپال کے کئی علاقوں میں تباہی مچا ئی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande