دھوکہ دہی کے ذریعے 944 ہیکٹر اراضی بینکوں میں رہن رکھ کر قرض لینے والی دو کمپنیوں پر یوگی حکومت کا شکنجہ، الاٹمنٹ منسوخ کر کے تمام زمین واپس لی
کمپنیوں نے کانپور دیہات میں 15 سال میں بھی شروع نہیں کیا پاور پلانٹ، نوٹس کا بھی جواب نہیں دیا جرائم کے خلاف یوگی حکومت کا زیرو ٹالرینس: کانپور دیہات کے ضلع مجسٹریٹ کو فوری کارروائی کی ہدایت گورنر کی منظوری کے بعد عمل تیز، کھتونی میں 944.029 ہی
یوپی کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ


کمپنیوں نے کانپور دیہات میں 15 سال میں بھی شروع نہیں کیا پاور پلانٹ، نوٹس کا بھی جواب نہیں دیا

جرائم کے خلاف یوگی حکومت کا زیرو ٹالرینس: کانپور دیہات کے ضلع مجسٹریٹ کو فوری کارروائی کی ہدایت

گورنر کی منظوری کے بعد عمل تیز، کھتونی میں 944.029 ہیکٹر اراضی محکمہ توانائی اور ریاستی حکومت کے نام ہوگی

کانپور دیہات، 26 اگست (ہ س)۔ یوگی حکومت نے دھوکہ دہی اور جرائم کے خلاف زیرو ٹالرینس کی پالیسی اپناتے ہوئے بدھ کو کانپور دیہات میں دو کمپنیوں کو الاٹ کی گئی 944 ہیکٹر اراضی کی الاٹمنٹ منسوخ کر کے اسے حکومت کے حق میں درج کرنے کے حتمی احکامات جاری کر دیے ہیں۔ سال 2011 میں تھرمل پاور پلانٹ لگانے کے نام پر میسرز لینکو انپرا پاور لمیٹڈ اور میسرز ہیماوت پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو بھوگنی پور تحصیل میں زمینیں الاٹ کی گئی تھیں۔ کمپنیوں نے 15 سال بعد بھی جائے وقوع پر کوئی کام شروع نہیں کیا اور بغیر اجازت زمینوں کو بینکوں میں رہن رکھ دیا۔ گورنر کی منظوری ملتے ہی محکمہ توانائی نے کانپور دیہات کے ضلع مجسٹریٹ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ کھتونی سے دونوں کمپنیوں کا نام خارج کر کے یہ زمین اتر پردیش حکومت اور محکمہ توانائی کے نام داخل خارج کی جائے۔

اس پورے معاملے کا آغاز 28 جون 2011 کو ہوا تھا، جب محکمہ توانائی اور دونوں کمپنیوں کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔ میسرز لینکو انپرا پاور لمیٹڈ کو بھوگنی پور تحصیل کے گاوں کرپال پور، چپر گھٹا، رسول پور بھرنڈا اور بھرتولی میں 90.3260 ہیکٹر پٹہ اراضی اور 285.0524 ہیکٹر حاصل کردہ نجی اراضی ملا کر کل 375.378 ہیکٹر زمین دی گئی تھی۔ وہیں، میسرز ہیماوت پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کو گاوں امیلیا، سیہاری، کچھگاوں اور چپر گھٹا میں 217.813 ہیکٹر پٹہ اراضی اور 350.838 ہیکٹر حاصل کردہ نجی اراضی ملا کر کل 568.651 ہیکٹر زمین دستیاب کرائی گئی تھی۔

معاہدے کی شرط کے مطابق، کمپنیوں کو زمین کا قبضہ ملنے کے تین سال کے اندر پاور پروجیکٹ کی تعمیر مکمل کرنی تھی۔ تاہم تین سال سے زائد کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی کمپنیوں نے پاور پروجیکٹ کی تعمیر کا کام آج تک شروع ہی نہیں کیا۔ اس طرح دونوں ہی کمپنیوں نے معاہدے کی پہلی اور سب سے بڑی شرط کی کھلی خلاف ورزی کی۔

اس کے بعد جانچ میں دھوکہ دہی کی دوسری بڑی بات سامنے آئی۔ معاہدے کی شرط میں واضح لکھا تھا کہ کمپنیاں ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر زمین کو کسی کو فروخت کر نہیں سکتیں، نہ ہی لیز پر دے سکتی ہیں اور نہ ہی رہن رکھ سکتی ہیں۔ اس کے باوجود میسرز ہیماوت پاور نے بغیر کسی اجازت کے زمین کو آئی ڈی بی آئی بینک میں رہن رکھ دیا۔ وہیں میسرز لینکو انپرا پاور نے بھی حکومت کو بتائے بغیر زمین کو کینرا بینک اور پنجاب نیشنل بینک میں رہن رکھ دیا۔ کمپنیوں نے اس سلسلے میں محکمہ توانائی کو کوئی خط نہیں بھیجا اور نہ ہی حکومت سے کوئی اجازت لی، جس سے ریاستی حکومت کو بڑا مالی نقصان پہنچا۔

شرائط کی خلاف ورزی ہونے پر حکومت نے سخت رخ اپنایا اور معاہدے کی شرط 4(6) کے تحت 25 مئی 2026 کو دونوں کمپنیوں کو 15 دن کے اندر جواب دینے کے لیے وجہ بتاو نوٹس جاری کیا۔ یہ نوٹس کمپنیوں کے رجسٹرڈ پتے اور ای میل پر بھیجا گیا، جو کمپنیوں کو موصول بھی ہو گیا۔ اس کے باوجود مقررہ وقت گزر جانے کے بعد بھی کمپنیوں کی جانب سے کوئی وضاحت یا جواب دستیاب نہیں کرایا گیا۔ اس سے واضح ہو گیا کہ کمپنیوں کے پاس شرائط کی خلاف ورزی کا کوئی جواب نہیں تھا۔

کمپنیوں کی جانب سے جان بوجھ کر کام نہ کرنے، حکومت کو مالی نقصان پہنچانے اور نوٹس کا جواب نہ دینے کی وجہ سے 25 اگست 2026 کو ایڈیشنل چیف سکریٹری ڈاکٹر آشیش کمار گوئل نے حتمی حکم نامہ جاری کر دیا۔ حکم نامے میں گورنر کی منظوری سے پوری 944.029 ہیکٹر اراضی کو محکمہ توانائی میں دوبارہ شامل کرنے کے لیے کہا گیا۔ ساتھ ہی، حکم نامے کی کاپی کانپور دیہات کے ضلع مجسٹریٹ کو بھیج کر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر ریونیو ریکارڈز (کھتونی) میں اس پوری زمین کو محکمہ توانائی اور ریاستی حکومت کے نام درج کرانے کی ضابطے کے مطابق ضروری کارروائی یقینی بنائیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande