
نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ فارنزک سائنس، ایویڈنس مینجمنٹ، سائبر اور ڈیجیٹل فارنزکس، ڈی این اے فارنزکس اور قانون و نفاذِ قانون سے متعلق سلوشنز فراہم کرنے والی کمپنی کوئیک فارنزک سلوشنز کا 50.77 کروڑ روپے کا آئی پی او آج سبسکرپشن کے لیے کھول دیا گیا۔ اس آئی پی او میں 31 اگست تک بولی لگائی جا سکتی ہے۔ ایشو بند ہونے کے بعد یکم ستمبر کو حصص کی الاٹمنٹ کی جائے گی، جبکہ 2 ستمبر کو الاٹ کیے گئے حصص ڈی میٹ اکاونٹ میں کریڈٹ کر دیے جائیں گے۔ کمپنی کے حصص 3 ستمبر کو بی ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر لسٹ ہو سکتے ہیں۔ لانچ ہونے کے کچھ ہی دیر بعد یہ ایشو مکمل طور پر سبسکرائب ہوگیا۔ شام3:15 بجے تک آئی پی او 5.51 گنا سبسکرائب ہو چکا تھا۔
اس آئی پی او میں بولی لگانے کے لیے 85 روپے سے 90 روپے فی شیئر کا پرائس بینڈ مقرر کیا گیا ہے، جبکہ لاٹ سائز 1,600 حصص کا ہے۔ ریٹیل سرمایہ کاروں کو دو لاٹس یعنی 3,200 حصص کے لیے بولی لگانی ہوگی، جس کے لیے انہیں 2,88,000 روپے کی سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ اس آئی پی او کے تحت 10 روپے کی فیس ویلیو والے کل 56,41,600 حصص جاری کیے جا رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 42 کروڑ روپے مالیت کے 45,61,600 نئے حصص جاری کیے جا رہے ہیں، جبکہ تقریباً 10 کروڑ روپے مالیت کے 10,80,000 حصص آفر فار سیل (او ایف ایس) کے ذریعے فروخت کیے جا رہے ہیں۔
اس آئی پی او میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرز (کیو آئی بی) کے لیے 47.39 فیصد حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے 33.30 فیصد اور نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے 14.29 فیصد حصہ مختص ہے۔ مارکیٹ میکر کے لیے 5.02 فیصد حصہ محفوظ رکھا گیا ہے۔ اس ایشو کے لیے کارپوریٹ کیپیٹل وینچرز پرائیویٹ لمیٹڈ کو بک رننگ لیڈ مینیجر مقرر کیا گیا ہے، جبکہ بگ شیئر سروسز پرائیویٹ لمیٹڈ کو رجسٹرار بنایا گیا ہے۔ آر کے اسٹاک ہولڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا مارکیٹ میکر ہے۔
کوئیک فارنزک سلوشنز کی مالی حالت کی بات کریں تو، کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی (ایس ای بی آئی) کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق کمپنی کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2023تا2024 میں کمپنی کو 2.83 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 8.56 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کو 13.51 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔
اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں کمپنی کو 30.26 کروڑ روپے کی کل آمدنی حاصل ہوئی، جو مالی سال 2024تا2025 میں بڑھ کر 65.08 کروڑ روپے ہوگئی۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کی آمدنی 105.80 کروڑ روپے رہی۔ اس دوران کمپنی کے قرض میں اتار چڑھاو ہوتا رہا۔ مالی سال 2023تا2024 کے اختتام پر کمپنی پر 3.24 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو اگلے مالی سال 2024تا2025 میں معمولی اضافے کے ساتھ 3.26 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی پر موجود قرض مکمل طور پر ختم ہوگیا، یعنی کمپنی مکمل طور پر قرض سے پاک ہوگئی۔
اس عرصے میں کمپنی کے نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 9.86 کروڑ روپے تھا۔ اسی طرح 2024تا2025 میں کمپنی کا نیٹ ورتھ بڑھ کر 27.90 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں یہ 41.41 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس عرصے میں اس میں اتار چڑھاو دیکھنے کو ملا۔ مالی سال 2023تا2024 میں یہ 7.93 کروڑ روپے تھا۔ اسی طرح 2024تا2025 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس زبردست اضافے کے ساتھ 25.79 کروڑ روپے ہوگیا۔ تاہم گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں ریزرو اور سرپلس معمولی کمی کے ساتھ 24.53 کروڑ روپے رہ گیا۔
اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹریسٹ،ٹیکسز،ڈپریشیئیشنس اینڈایمارٹائزیشن) مالی سال 2023تا2024 میں 5.45 کروڑ روپے تھا، جو 2024تا2025 میں بڑھ کر 12.25 کروڑ روپے ہوگیا۔ گزشتہ مالی سال 2025تا2026 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے مزید بڑھ کر 19.06 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی