
واشنگٹن، 27 اگست (ہ س)۔
امریکہ کی مرکزی خفیہ ایجنسی (سی آئی اے) کے سربراہ جان ریٹکلف نے روس کے دارالحکومت ماسکو کا خفیہ دورہ کیا۔ اس معاملے سے واقف افراد کے مطابق، اس ہفتے سی آئی اے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کے ماسکو دورے کا مقصد روس کو شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے رکن ممالک پر حملہ نہ کرنے کی وارننگ دینا تھا۔ ان کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی خفیہ اداروں کا خیال ہے کہ روس نیٹو کا امتحان لینے کی کوشش کر سکتا ہے۔
سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق، ریٹکلف نے ماسکو کے دورے کے دوران ایران کا معاملہ بھی اٹھایا اور خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے دوبارہ نہیں کھولا گیا تو مزید پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ ماسکو کا یہ خفیہ دورہ منگل کو اس وقت منظر عام پر آیا جب ماسکو کے ہوائی اڈے پر امریکی فضائیہ کا ایک طیارہ اور شہر سے گزرتا ہوا ایک سفارتی قافلہ دیکھا گیا۔ یوکرین کے ایک سینئر عہدیدار کے مطابق، یوکرین کو بتایا گیا تھا کہ ایک امریکی وفد ماسکو جائے گا اور ان سے کہا گیا تھا کہ دورے کے دوران وہ حملے نہ کریں۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو ریڈیو میزبان گلین بیک کے ساتھ انٹرویو میں ماسکو دورے کی تصدیق کی، تاہم انہوں نے کہا کہ اس کا ایران یا روس کی جانب سے نیٹو کی آزمائش کرنے کی خواہش سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے اسے ایک معمول کا دورہ قرار دیا۔ ٹرمپ نے البتہ کہا کہ ریٹکلف کے دورے سے کچھ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یوکرین کے ساتھ روس کی جنگ ختم کرنے کی اپنی کوششوں کی جانب بھی اشارہ کیا۔
کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے ماسکو میں صحافیوں کو بتایا کہ ریٹکلف نے روسی خفیہ اداروں کے حکام سے بات چیت کی، لیکن صدر ولادیمیر پوتن سے ملاقات نہیں کی۔ اس ماہ کے آغاز میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی خفیہ اداروں کے جائزے سے اشارہ ملا تھا کہ پوتن نیٹو کے رکن ممالک کے علاقوں میں اشتعال انگیز کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ ان میں سائبر حملے، ہائبرڈ کارروائیاں اور دیگر مہمات شامل ہو سکتی ہیں، جو روایتی فوجی کارروائی کی سطح تک نہیں پہنچتیں۔
امریکی حکام کے مطابق، حالیہ روسی اقدامات نے تشویش پیدا کی ہے۔ ان میں رومانیہ میں ڈرون کا داخل ہونا، گزشتہ ماہ پولینڈ کی سرحد میں داخل ہونے والا ایک روسی میزائل اور یورپ میں مبینہ طور پر تخریب کاری اور سائبر حملوں میں اضافہ شامل ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ نیٹو اتحاد کے رکن ممالک حملے کی صورت میں ایک دوسرے کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ امریکہ میں 11 ستمبر 2001 کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد بھی سب نے اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ٹرمپ طویل عرصے سے نیٹو کی ساکھ پر سوال اٹھاتے رہے ہیں اور رکن ممالک پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ