ڈالر کی متبادل کرنسی پر برکس میں کوئی غور و خوض نہیں ہو رہا ہے: ہندوستان
نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ اگلے ماہ یہاں منعقد ہونے والے 18 ویں برکس سربراہی اجلاس میں باہمی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے متبادل پر بحث کے دوران چوتھی بار اس گروپ کی صدارت کرنے والے ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان تجارت کے لیے کسی متباد
ڈالر کی علامتی تصویر


نئی دہلی، 27 اگست (ہ س)۔ اگلے ماہ یہاں منعقد ہونے والے 18 ویں برکس سربراہی اجلاس میں باہمی تجارت کے لیے امریکی ڈالر کے متبادل پر بحث کے دوران چوتھی بار اس گروپ کی صدارت کرنے والے ہندوستان نے واضح کیا ہے کہ رکن ممالک کے درمیان تجارت کے لیے کسی متبادل بین الاقوامی کرنسی پر کوئی غور نہیں کیا جا رہا ہے۔

اگلے ماہ کے وسط میں ہونے والے برکس اجلاس پر مغربی ایشیا کی جنگ کا سایہ بھی گہرا ہے اور جنگ میں رکن ممالک کے متضاد کرداروں کے پیش نظر مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے کو لے کر شکوک و شبہات کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ ہندوستان کے سامنے ایران، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو ایک مسودے پر متفق کرنے کا چیلنج ہے۔ تاہم سرکاری ذرائع نے امید ظاہر کی ہے کہ برکس کے مختلف فورمز کی میٹنگوں کی طرح سربراہ اجلاس کا بھی مشترکہ بیان جاری ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ 12 اور 13 ستمبر کو دارالحکومت کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے لیے تمام دیگر 10 رکن ممالک اور شراکت دار ممالک کو دعوت نامہ بھیجا گیا ہے۔ اس کے علاوہ خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) اور افریقی یونین کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ ممالک کی شرکت کی سطح کے حوالے سے فی الحال متعلقہ ممالک کی حکومتوں اور سفارتی ذرائع سے بات چیت جاری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ چینی صدر شی جن پنگ کی آمد کی تیاریاں چل رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین ہمیشہ سے برکس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ہے۔

مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر برکس سمٹ کے انعقاد بالخصوص مشترکہ بیان پر اثر پڑنے کے امکان کے بارے میں پوچھے جانے پر ذرائع نے کہا کہ اب تک برکس کے مختلف فورمز کی جتنی بھی میٹنگیں ہوئی ہیں، ان سب میں مشترکہ بیان جاری ہوا ہے۔ اس لیے سربراہی اجلاس میں بھی بیان جاری ہونے کی پوری امید ہے۔ ذرائع کے مطابق شیرپاوں کی میٹنگ میں مشترکہ بیان کے مسودے پر غور و خوض جاری ہے۔ پوری امید ہے کہ جو بھی دستاویز بنے گی وہ اتفاقِ رائے اور سب کے تعاون سے بنے گی۔

سربراہی اجلاس میں امریکی ڈالر کے متبادل کے طور پر نئی کرنسی کو لے کر اٹھنے والی آوازوں اور امریکہ کی دھمکیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر ذرائع نے کہا کہ یہ بالکل درست نہیں ہے۔ برکس میں ڈالر کو ہٹانے یا کمزور کر کے نئی کرنسی اپنانے پر کوئی بحث یا مشاورت نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ دو ممالک آپسی سہولت سے باہمی کرنسیوں میں کاروبار کرنے کو لے کر بات چیت کرنے کے لیے آزاد ہیں اور اس پر کوئی پابندی نہیں ہے، لیکن یہ گروپ کی سطح پر بالکل نہیں ہو رہا ہے۔

برکس کا پس منظر دو دہائی پرانا ہے۔ سب سے پہلے برازیل، روس، ہندوستان اور چین کے گروپ ’برک‘ کو 2006 میں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران برک وزرائے خارجہ کی پہلی میٹنگ میں باضابطہ شکل دی گئی تھی۔ پہلا برک سمٹ 2009 میں روس کے یکاترن برگ میں منعقد ہوا تھا۔ سال 2010 میں نیویارک میں برک وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں جنوبی افریقہ کو شامل کر کے برک کی توسیع برکس کی شکل میں کرنے پر اتفاق رائے ہوا تھا۔ اس کے بعد جنوبی افریقہ نے 2011 میں سانیا میں تیسرے برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی۔ مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب اور یو اے ای جنوری 2024 سے برکس کے مکمل رکن بنے اور انڈونیشیا جنوری 2025 میں رکن بنا۔ بیلاروس، بولیویا، قازقستان، کیوبا، ملائیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام 2025 میں شراکت دار ممالک کے طور پر برکس میں شامل ہوئے۔ اس سال سے قبل ہندوستان 2012، 2016 اور 2021 میں صدارت کر چکا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ہندوستان اگلے ماہ نئی دہلی میں 18 ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ اس کانفرنس میں برکس کے اراکین اور شراکت دار ممالک کے رہنما، مدعو مہمان اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہان باہمی مفاد کے مختلف عالمی اور علاقائی امور پر غور و خوض کریں گے۔

ہندوستان کی صدارت کے موضوع اور ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ ہندوستان نے یکم جنوری 2026 کو برکس کی چوتھی صدارت سنبھالی ہے۔ ہندوستان کی صدارت کا مرکزی موضوع ’’لچک، جدت، تعاون اور استحکام کی تعمیر‘‘ ہے۔ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے 13 جنوری کو اس تھیم، لوگو اور سرکاری ویب سائٹ کی نقاب کشائی کی تھی۔ مرکزی موضوع وزیر اعظم کے ’’انسانیت اول‘‘ اور ’’عوام مرکوز‘‘ تعاون کے نقطہ نظر سے متاثر ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ برکس کی توسیع اور عالمی اثر و رسوخ:

2006 میں نیویارک میں وزرائے خارجہ کی میٹنگ سے شروع ہونے والا یہ گروپ اب دنیا کی ایک بڑی طاقت بن چکا ہے۔ 2010 میں جنوبی افریقہ کے شامل ہونے کے بعد حالیہ برسوں (25-2024) میں مصر، ایتھوپیا، ایران، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور انڈونیشیا اس کے مکمل رکن بنے ہیں۔

گروپ میں 11 رکن ممالک ہیں: ہندوستان، برازیل، چین، مصر، ایتھوپیا، انڈونیشیا، ایران، روس، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور متحدہ عرب امارات۔ جبکہ بیلاروس، بولیویا، کیوبا، قازقستان، ملائیشیا، نائیجیریا، تھائی لینڈ، یوگنڈا، ازبکستان اور ویتنام، یہ دس شراکت دار ممالک ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عالمی اثر و رسوخ کے اعتبار سے برکس ممالک اجتماعی طور پر دنیا کی تقریباً 49 فیصد آبادی اور عالمی جی ڈی پی (پی پی پی) کے تقریباً 40 فیصد حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ہندوستان کی صدارت کے تحت اب تک 350 سے زائد میٹنگیں منعقد کی جا چکی ہیں۔ ان میں وزرائے خارجہ، قومی سلامتی مشیروں اور مختلف شعبوں کی 22 وزارتی میٹنگوں کے علاوہ 10 اہم ایجنسیوں کے سربراہان کی میٹنگیں شامل ہیں۔ ان کا تفصیلی جائزہ درج ذیل ہے:

سیکورٹی اور کثیر جہتی نظام: جون 2026 میں نئی دہلی میں منعقدہ قومی سلامتی مشیروں کی میٹنگ میں دہشت گردی، سائبر سیکورٹی، سپلائی چین کے استحکام اور نئی ٹیکنالوجیز سے پیدا ہونے والے غیر روایتی سیکورٹی چیلنجوں پر توجہ مرکوز کی گئی۔

ثقافتی اور عوامی شرکت: بھوپال میں منعقدہ دو روزہ برکس کلچرل فیسٹیول، وارانسی میں ’کلرز آف انڈیا‘ شو، نیز سانچی، کھجوراہو اور اسٹیچو آف یونیٹی جیسی تاریخی و ثقافتی یادگاروں کے دوروں کے ذریعے ہندوستانی ثقافت کا مظاہرہ کیا گیا۔

جدت اور صحت: ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر، آیوش، ایم ایس ایم ای فورم اور اسٹارٹ اپس کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی تحفظ کے لیے ’برکس واٹیکا‘ جیسے اقدامات کیے گئے۔

ذرائع نے کہا کہ ہندوستان کے زیر اہتمام 18 واں برکس سربراہی اجلاس بنیادی طور پر گلوبل ساوتھ کی ترقیاتی ترجیحات، پائیدار طرز زندگی اور خواتین کی زیر قیادت ترقی کو عالمی سطح پر مضبوطی سے پیش کرے گا۔

انہوں نے برکس 2026 کے اہم اقدامات اور نتائج کے اہم نکات شیئر کیے جو درج ذیل ہیں:

زراعت اور غذائی تحفظ

ایگرو-ایکولوجی سنٹر آف ایکسیلنس: قدرتی، نامیاتی اور تجدیدی (ری جنریٹو) زراعت پر تحقیق اور صلاحیت سازی کے لیے ایک مشترکہ پلیٹ فارم۔

ڈیجیٹل ایگریکلچر نیٹ ورک: اے آئی، جیو اسپیشل انٹیلی جنس اور آئی او ٹی کے ذریعے زرعی ڈیٹا اور نگرانی کو مضبوط بنانا۔

برکس ایگرن: بیج، جرمزپلازم اور زرعی مداخل میں بہتری کے لیے کسان دوست باہمی فریم ورک۔

صحت اور ذہنی بہبود

صحت مند طرز زندگی مشن (2029-2026): موٹاپے اور غیر متعدی امراض کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدام۔

روایتی ادویات کے ماہرین کا ورکنگ گروپ: روایتی اور مقامی علم کے تحفظ، معیارات اور پالیسی مکالمے کے لیے اتفاق رائے پر مبنی پلیٹ فارم۔

ذہنی صحت کا تربیتی نیٹ ورک: نمہانس ہندوستان کی قیادت میں بنیادی حفظان صحت کی دیکھ بھال میں ذہنی بہبود کو مربوط کرنے کی کوشش۔

مہارت، توانائی اور شہری بنیادی ڈھانچہ

برکس کنیکٹ (مہارت کی ترقی): سماجی تحفظ، افرادی قوت میں خواتین کی شرکت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر کو فروغ دینا۔

اسمارٹ گرڈ اور انرجی اسٹوریج: توانائی کے ذخیرے کے لیے رہنما خطوط اور ڈیجیٹل سینٹر آف ایکسیلنس کا آغاز۔

شہری نقل و حرکت اور بنیادی ڈھانچہ: پائیدار شہری ٹرانسپورٹ کے لیے ’برکس اربن موبلٹی ہب‘ کا قیام۔

تجارت، ایم ایس ایم ای اور اسٹارٹ اپ

ایم ایس ایم ای پارٹنرشپ پورٹل: ایم ایس ایم ایز کے لیے بین الاقوامی تجارت، منڈی اور فنانس تک رسائی کو آسان بنانا۔

اسٹارٹ اپ نیٹ ورک اور انوویشن فنڈ: برکس ممالک میں ابتدائی مرحلے کے اسٹارٹ اپس کو فنڈنگ اور انکیوبیٹرز سے جوڑنا۔

گلوبل ویلیو چین ایکشن پلان 2030-2026: سپلائی چین کو مضبوط اور پائیدار بنانے کے لیے مشترکہ کوششیں۔

کسٹمز اور معیاربندی: کسٹمز کے معاملات میں انتظامی امدادی معاہدہ اور معیاربندی کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت کی یادداشت۔

دستاویز میں درج برکس 2026 کی وزارتی اور ایجنسیوں کے سربراہان کی میٹنگوں کے اہم نتائج اور اقدامات:

1. زراعت

ایگرو-ایکولوجی اور تجدیدی زراعت پر برکس نیٹ ورک کا قیام۔

ڈیجیٹل زراعت پر برکس نیٹ ورک۔

بیجوں کے نظام میں کسانوں کے حقوق پر عالمی فورم (ہندوستان کے زیر اہتمام)۔

زرعی مداخل، جینیاتی وسائل اور معلوماتی نیٹ ورک (برکس ایگرن)۔

2. صحت

روایتی اور مربوط ادویات پر برکس ماہرین کا گروپ۔

ذہنی بہبود پر سینٹر آف ایکسیلنس (نمہانس، ہندوستان کے زیر اہتمام)۔

صحت مند طرز زندگی کے لیے برکس مشن اور روڈ میپ (2029-2026)۔

متعدی امراض کی روک تھام کے لیے مربوط پیشگی انتباہی نظام پر ماہرین کا گروپ۔

صحت کے سماجی محرکات اور قومی عوامی صحت کے اداروں کے لیے آپریشنل فریم ورک۔

3. توانائی

توانائی کے ذخیرے اور اسمارٹ گرڈز پر برکس کے رہنما اصول۔

اسمارٹ گرڈز اور انرجی اسٹوریج کے لیے برکس ڈیجیٹل سینٹر آف ایکسیلنس۔

برکس انرجی ریسرچ کوآپریشن پلیٹ فارم کے اصول و ضوابط کی تجدید۔

4. ماحولیات

پائیدار طرز زندگی میں تحقیق اور جدت کو فروغ دینے کے لیے نیٹ ورک۔

صحرا بندی سے نمٹنے اور ماحولیاتی نظام کے لیے مربوط لینڈ اسکیپ مینجمنٹ کے اصول۔

جنگلات کی آگ سے نمٹنے کی تیاری اور ردعمل پر اتفاق رائے۔

موسمیاتی لچک کو بڑھانے کے اصول۔

5. ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور اربنائزیشن

موسمیاتی اثرات کو برداشت کرنے والے شہری بنیادی ڈھانچے کے لیے رضاکارانہ اصول۔

ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق پیشگی انتباہی ڈیٹا کے انضمام کے رہنما خطوط۔

برکس اربن ریسرچ اینڈ نالج نیٹ ورک کا قیام۔

6. ٹرانسپورٹ اور صنعت

لاجسٹکس سپلائی چین تعاون کا فریم ورک اور برکس اربن موبلٹی ہب۔

پائیدار ایوی ایشن ایندھن پر برکس فورم۔

اسٹارٹ اپس کی قیادت میں ترقی کے لیے ایکشن پلان (برکس اسٹارٹ اپ انوویشن فنڈ اور انکیوبیٹر نیٹ ورک شامل ہیں)۔

ایم ایس ایم ای ورکنگ گروپ کا باہمی فریم ورک، ایم ایس ایم ای فورم رپورٹ 2026 اور فوٹو وولٹک نالج پورٹل۔

7. تجارت، ٹیکنالوجی اور انصاف

کثیر جہتی تجارتی نظام کے تحفظ پر بیان۔

ایم ایس ایم ایز کو بین الاقوامی سطح پر لے جانے اور گلوبل ویلیو چین پر ایکشن پلان۔

سرحد پار ڈیجیٹل خدمات کی آسانی کے لیے اصول۔

سائنس اور تحقیقی ذخیرہ (ریپوزیٹری) نیز ریسرچ انفراسٹرکچر ایکشن پلان۔

ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ریپوزیٹری کی تجویز۔

متبادل تنازعات کے حل (اے ڈی آر) کو مضبوط بنانے کے لیے وزرائے انصاف کا اعلامیہ۔

8. محنت، تعلیم، نوجوان، خواتین اور کھیل

برکس کنیکٹ: لیبر مارکیٹ، مہارت اور سماجی تحفظ میں بہترین طریقہ کار کے تبادلے کا نیٹ ورک۔

روایتی علمی نظاموں پر تعلیمی تعاون اور برکس یوتھ کوآپریشن فریم ورک 2026۔

خواتین کے لیے ڈیجیٹل صلاحیت سازی کے رہنما اصول اور ریپوزیٹری۔

اسپورٹس ٹیکنالوجی پر برکس ورکنگ گروپ کا قیام۔

9. ایجنسیوں کے سربراہان کی میٹنگیں

سپریم آڈٹ ادارے: بنگلورو اعلامیہ اور ایس اے آئی ایکشن پلان 2028-2027 کو حتمی شکل دی گئی۔

خلائی ایجنسیاں: ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ کونسٹیلیشن معاہدے میں نئے اراکین کے انضمام کے لیے ترمیم۔

انسدادِ منشیات ایجنسیاں: گوہاٹی اعلامیہ – غیر قانونی منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ عزم۔

معیاربندی کے ادارے: بنگلورو اعلامیہ اور معیاربندی میں تعاون کا معاہدہ۔

شماریاتی دفاتر: برکس جوائنٹ اسٹیٹسٹیکل پبلیکیشن 2026 اور جے ایس پی اسنیپ شاٹ کا اجراء۔

انسدادِ بدعنوانی ورکنگ گروپ: مفرور مجرموں کا پتہ لگانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ماہرین کے نیٹ ورک پر اصولی اتفاق۔

مسابقت اور کسٹمز: قابلِ تجدید توانائی کے شعبے پر برکس مطالعے کی اشاعت، اے ای او ایکشن پلان 2026 پر عمل درآمد اور کسٹمز امور پر سی ایم اے اے معاہدے کی منظوری۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande