قومی کمیشن برائے شڈول ٹرائب نے گجر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی اور موت کے خلاف شدید رد عمل ک اظہار کیا
جموں, 26 اگست (ہ س)۔ قومی کمیشن برائے شڈول ٹرائب (این سی ایس ٹی) نے کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں کمسن لڑکی سے مبینہ زیادتی اور اس کے بعد موت کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری، پولیس سربراہ اور ایس ایس پی کشتواڑ سے پانچ روز کے ان
قومی کمیشن برائے شڈول ٹرائب نے گجر لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی اور موت کے خلاف شدید رد عمل ک اظہار کیا


جموں, 26 اگست (ہ س)۔ قومی کمیشن برائے شڈول ٹرائب (این سی ایس ٹی) نے کشتواڑ کے چھاترو علاقے میں کمسن لڑکی سے مبینہ زیادتی اور اس کے بعد موت کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری، پولیس سربراہ اور ایس ایس پی کشتواڑ سے پانچ روز کے اندر جواب طلب کیا ہے۔قبائلی گجر بکروال ویلفیئر فاؤنڈیشن کی جانب سے کمیشن میں شکایت دائر کی گئی تھی، جس میں مبینہ زیادتی کے واقعے کی تحقیقات، ایس سی/ایس ٹی (انسداد مظالم) ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے اطلاق، متاثرہ خاندان کو معاوضہ اور تحقیقات کی نگرانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

شکایت کے مطابق کشتواڑ ضلع کی 15 سالہ گجر لڑکی کو مبینہ طور پر اس کے استاد نے کئی ماہ تک جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی۔ مبینہ طور پر 20 اگست کو اسقاط حمل کی کوشش کے دوران اس کی موت ہوگئی۔این سی ایس ٹی نے شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری، ڈی جی پی اور ایس ایس پی کشتواڑ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ کمیشن نے متعلقہ حکام کو شکایت میں لگائے گئے الزامات سے متعلق حقائق، معلومات اور اب تک کی گئی کارروائی کی تفصیلات نوٹس موصول ہونے کے پانچ روز کے اندر پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔

کمیشن نے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت میں جواب موصول نہ ہونے کی صورت میں وہ آئین کے آرٹیکل 338اے کے تحت حاصل سول عدالت کے اختیارات استعمال کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ذاتی طور پر یا مجاز نمائندوں کے ذریعے طلب کرسکتا ہے۔پولیس نے اس معاملے میں مبینہ طور پر ملوث استاد کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے اسے اور اس کے بھائی کو گرفتار کرلیا ہے۔فاؤنڈیشن نے معاملے میں مبینہ دھمکیوں، مالی لالچ، واقعے کو دبانے کی کوشش، پہلے سے معلومات رکھنے والے افراد کی جانب سے اطلاع نہ دینے اور جرم کو چھپانے یا معاملے کو متاثر کرنے میں ممکنہ طور پر ملوث افراد کے کردار کی بھی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کے مطابق متوفی لڑکی کا تعلق گجر شڈول ٹرائب سے تھا، اس لیے ایس سی/ایس ٹی ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے اطلاق کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ فاؤنڈیشن نے متاثرہ خاندان اور گواہوں کے تحفظ، طبی و ڈیجیٹل شواہد محفوظ رکھنے اور قانونی طور پر واجب معاوضہ و امداد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دریں اثنا، جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’انتہائی ہولناک اور شرمناک‘ قرار دیا۔ انہوں نے پولیس کی جانب سے ملزمان کی فوری گرفتاری کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایسے گھناؤنے جرم کے ملزم کو مثالی سزا ملنی چاہیے۔آزاد نے کہا کہ معاشرے کو ایسے جرائم کے خلاف متحد ہوکر مضبوط موقف اختیار کرنا ہوگا اور متاثرہ خاندان کو جلد انصاف فراہم کیا جانا چاہیے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / محمد اصغر


 rajesh pande