
دمشق/عمان، 24 اگست(ہ س)۔ شام اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ باخبر ذرائع کے مطابق شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اردن میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے سربراہ رومن گوپ مین سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے اور مزید فوجی تصادم کا راستہ روکنے کی کوششوں کے تحت ہوئی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ رابطہ 18 اگست کو شام کے ابو الظہور فضائی اڈے پر اسرائیلی حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے درمیان ہوا۔ حملے کے بعد دمشق اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ملاقات میں شام اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے امریکی نگرانی میں ایک مشترکہ ’’آپریشن روم‘‘ قائم کرنے کی تجویز پر بھی بات چیت ہوئی۔ اس کا مقصد دونوں فریقوں کے درمیان رابطے کو برقرار رکھنا اور کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کو بڑھنے سے روکنا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس ملاقات کے بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ دمشق کی جانب سے بھی فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔اسرائیل نے ابو الظہور فضائی اڈے پر کارروائی کی وجہ وہاں ترکیہ کی ممکنہ عسکری سرگرمیوں سے متعلق اپنے خدشات کو قرار دیا تھا۔ تاہم شام اور ترکیہ دونوں نے ایسی کسی بھی منصوبہ بندی کی تردید کی ہے جس کے تحت مذکورہ ایئر بیس کو ترکیہ کے فوجی اڈے میں تبدیل کیا جانا ہو۔
اسعد الشیبانی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دمشق نے اسرائیل کو واضح طور پر آگاہ کیا تھا کہ ابو الظہور ایئر بیس ترکیہ کے فوجی اڈے کے طور پر استعمال نہیں ہوگا، اس کے باوجود اسرائیل نے وہاں حملہ کیا۔موجودہ سفارتی رابطے نے اس سکیورٹی معاہدے کی بحث کو ایک بار پھر زندہ کردیا ہے جسے امریکہ گزشتہ کئی ماہ سے شام اور اسرائیل کے درمیان آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔
اسعد الشیبانی کے مطابق رواں سال کے آغاز میں مذاکرات میں تعطل آنے سے پہلے دونوں فریق کئی اہم معاملات پر اصولی طور پر اتفاق کے قریب پہنچ گئے تھے۔ مجوزہ معاہدے میں اسرائیل کی جانب سے شام کی سرزمین پر حملے روکنے اور شام کے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے سے متعلق شقیں شامل تھیں۔ذرائع کے مطابق معاہدے کا ایک اہم حصہ ان علاقوں سے اسرائیلی افواج کی واپسی سے بھی منسلک تھا جن پر دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے قبضہ کیا تھا۔ اس کے علاوہ شام اور اسرائیل کی سرحد کے قریب مختلف سکیورٹی زونز کے قیام کی تجویز بھی زیر غور تھی۔ان میں ایک بفر زون بھی شامل تھا جہاں صرف اقوام متحدہ کی افواج کی موجودگی کی بات کی گئی تھی، جبکہ دیگر علاقوں میں شامی سکیورٹی فورسز کی محدود تعداد میں تعیناتی کی تجویز تھی۔
شامی وزیر خارجہ نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مطلوبہ سیاسی ارادے کا مظاہرہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق دمشق کو اسرائیل کی جانب سے کسی حتمی سمجھوتے تک پہنچنے کی حقیقی خواہش محسوس نہیں ہوئی۔اس کے باوجود شام کا کہنا ہے کہ سفارت کاری کے دروازے بند نہیں کیے گئے ہیں۔ دمشق کی موجودہ ترجیح اسرائیلی حملوں کا خاتمہ اور ملک میں مزید فوجی کشیدگی کو روکنا ہے۔ اس کے بعد سرحدی سلامتی اور گولان کی پہاڑیوں سمیت دیگر حساس معاملات پر وسیع تر مذاکرات کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔امریکہ گزشتہ ایک سال سے اسرائیل اور شام کے درمیان سکیورٹی رابطوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست فوجی جھڑپوں کے امکانات کم ہوں اور کسی ایسے سکیورٹی فریم ورک پر اتفاق کیا جائے جو مستقبل میں بڑے تنازع کو روک سکے۔اسعد الشیبانی کے مطابق امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈالنے اور اسے مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دمشق بھی اس بات پر زور دے رہا ہے کہ موجودہ اختلافات کے باوجود سفارتی رابطے برقرار رہنے چاہئیں۔
شام اور اسرائیل کے درمیان موجودہ کشیدگی صرف ابو الظہور فضائی اڈے پر ہونے والے حالیہ حملے تک محدود نہیں۔ بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے جنوبی شام میں اپنی فوجی سرگرمیاں بڑھائی ہیں، متعدد مقامات پر اپنی موجودگی قائم کی ہے اور مختلف فوجی اہداف کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔دمشق کا مؤقف ہے کہ اسرائیلی فوجی کارروائیاں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائیاں اپنی سرحدوں کے قریب ممکنہ سکیورٹی خطرات کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔
شام اور اسرائیل 1948 سے باضابطہ طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ کے بعد گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ کرلیا تھا، جو دونوں ملکوں کے درمیان سب سے حساس تنازعات میں سے ایک ہے۔ایسے میں اسعد الشیبانی اور موساد سربراہ رومن گوپ مین کی اردن میں ملاقات اس لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ یہ دونوں فریقوں کے درمیان براہ راست رابطے اور کشیدگی کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی نشاندہی کرتی ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ آیا یہ رابطہ کسی وسیع تر سکیورٹی معاہدے کی بحالی کی بنیاد بنے گا یا صرف وقتی بحران سے نمٹنے تک محدود رہے گا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan