مکوکا معاملے میں نریش بالیان کی ضمانت عرضی پر سپریم کورٹ کا دہلی پولیس کو نوٹس
نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دہلی کے سابق رکن اسمبلی نریش بالیان کی مکوکا معاملے میں دائر ضمانت عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔ دہلی ہائی کورٹ نے
مکوکا معاملے میں نریش بالیان کی ضمانت عرضی پر سپریم کورٹ کا دہلی پولیس کو نوٹس


نئی دہلی، 24 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے دہلی کے سابق رکن اسمبلی نریش بالیان کی مکوکا معاملے میں دائر ضمانت عرضی پر سماعت کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ جسٹس وکرم ناتھ کی سربراہی والی بنچ نے یہ نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے 3 اگست کو نریش بالیان کی ضمانت عرضی مسترد کر دی تھی۔ اس فیصلے کو بالیان نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس معاملے میں راؤز ایونیو کورٹ نے 5 مئی 2025 کو دہلی پولیس کی جانب سے نریش بالیان سمیت پانچ ملزمان کے خلاف داخل کی گئی ضمنی چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔ہائی کورٹ میں ضمانت کی سماعت کے دوران دہلی پولیس نے نریش بالیان کی ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے خلاف مکوکا کے تحت مقدمہ بنتا ہے۔ پولیس کے مطابق 2019 میں درج ایف آئی آر میں مبینہ مجرمانہ سازش کا انکشاف 2024 میں ہوا۔

دہلی پولیس کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر امیت پرساد نے مکوکا کی دفعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی بھی طریقے سے جرم میں مدد کرتا ہے تو وہ بھی مکوکا کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ چارج شیٹ میں ایک مبینہ گینگ کا ذکر ہے اور معاملہ صرف ایک شخص کے کردار تک محدود نہیں ہے۔پولیس کے مطابق، 2019 کی ایف آئی آر میں ایک شخص عینی شاہد تھا، جس کا 2024 میں قتل کر دیا گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس واقعے سے ملزمان کی مبینہ سازش اور مجرمانہ روابط کا پتہ چلتا ہے۔دوسری جانب نریش بالیان کی طرف سے پیش ہوئے وکیل وویک جین نے دلیل دی تھی کہ ان کے موکل کے خلاف مکوکا کا مقدمہ نہیں بنتا، کیونکہ اس قانون کے تحت مسلسل جرائم میں ملوث ہونے کا ثبوت ضروری ہے۔ وکیل نے کہا تھا کہ ایف آئی آر میں کسی نئے جرم یا نئی مجرمانہ سرگرمی کا ذکر نہیں ہے، اس لیے مکوکا کی دفعات کا اطلاق نہیں کیا جا سکتا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande