اے ایم یو کے شعبہ لسانیات میں دکشارمبھ پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ, 24 اگست (ہ س)۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات نے تعلیمی سیشن 2026-27 میں نئے داخلہ لینے والے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں ‘‘دکشارمبھ: اورینٹیشن و اسٹوڈنٹ انڈکشن پروگرام 2026’’ کا انعقاد کیا۔
استقبال


علی گڑھ, 24 اگست (ہ س)۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات نے تعلیمی سیشن 2026-27 میں نئے داخلہ لینے والے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ طلبہ کے لیے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں ‘‘دکشارمبھ: اورینٹیشن و اسٹوڈنٹ انڈکشن پروگرام 2026’’ کا انعقاد کیا۔

اے ایم یو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی، جبکہ فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان مہمانِ اعزازی تھے۔ پروگرام کی سربراہی شعبہ لسانیات کے چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی نے کی، جبکہ ڈاکٹر مہوش محسن نے پروگرام کو مربوط کیا۔ اس موقع پر مختلف شعبوں کے سربراہان، اساتذہ، ریسرچ اسکالرز اور نئے داخلہ لینے والے طلبہ موجود رہے۔

پروفیسر محمد گلریز نے طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے انہیں مشورہ دیا کہ وہ یونیورسٹی کی سہولیات اور مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے باشعور اور ذمہ دار افراد کی تشکیل میں اخلاقی اقدار، اپنی غلطیوں سے سیکھنے اور اقدار پر مبنی تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔

پروفیسر محمد رضوان خان نے یونیورسٹی کی زندگی سے نووارد طلبہ کے ہم آہنگ ہونے میں تعارفی پروگراموں کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے سینئر اور جونیئر طلبہ کے درمیان بامعنی باہمی روابط کی حوصلہ افزائی کی، ذہنی صحت کی اہمیت پر زور دیا اور طلبہ سے کہا کہ وہ اے ایم یو کے تعلیمی بنیادی ڈھانچے اور دستیاب مواقع سے بھرپور استفادہ کریں۔ انہوں نے طلبہ کو یہ بھی مشورہ دیا کہ وہ اپنے اختصاص کے شعبوں کا انتخاب احتیاط سے کریں اور تعلیمی میدان میں امتیاز حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس سے قبل پروفیسر وارثی نے نو وارد طلبہ کا خیرمقدم کیا اور انہیں تعلیمی دیانت داری برقرار رکھنے، اساتذہ اور سینئر طلبہ کے ساتھ مثبت روابط قائم کرنے اور یونیورسٹی کی سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی۔ اے ایم یو کی علمی میراث اور ہندوستان کی عظیم علمی روایات کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے لسانیات کے میدان میں پانِنی کی خدمات کا حوالہ دیا اور طلبہ پر زور دیا کہ وہ چیلنجوں کا مثبت انداز میں سامنا کریں، اپنی غلطیوں سے سیکھیں اور تعلیمی کامیابی کے ساتھ ساتھ کردار سازی پر بھی توجہ دیں۔

اس موقع پر شعبہ لسانیات کے ریسرچ اسکالرز نے لنگوئسٹ آف دی ایئر ایوارڈ 2025 ملنے پر پروفیسر وارثی کی عزت افزائی کی اور ان کی سرپرستی اور شعبہ کی تعلیمی و بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔ ڈاکٹر پلّو وِشنو نے اظہارِ تشکر کیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande