
جموں, 24 اگست (ہ س)۔
جموں کے امب پھلا سے روپ نگر تک مجوزہ فلائی اوور کے خلاف دکانداروں اور مقامی باشندوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے حکومت سے منصوبہ روکنے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین نے متبادل کے طور پر مانڈا سے اکھنور تک رنگ روڈ تعمیر کرنے اور امب پھلا سے اکھنور تک میٹرو سروس شروع کرنے کی تجویز پیش کی۔
پیر کے روز نیو پلاٹ کے علاقے میں جانی پور روڈ پر مشن اسٹیٹ ہڈ کے صدر سنیل ڈمپل کی قیادت میں احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اس موقع پر مجوزہ فلائی اوور کی زد میں آنے والے دکانداروں، خواتین اور مقامی باشندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے مقامی باشندوں اور تاجروں کو اعتماد میں لیے بغیر فلائی اوور منصوبے پر کارروائی شروع کردی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی دہائیوں سے علاقے میں آباد لوگوں اور تاجروں کے لیے معاوضے اور بازآبادکاری کا کوئی واضح منصوبہ سامنے نہیں آیا۔
سنیل ڈمپل نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے مطالبہ کیا کہ منصوبے سے متاثر ہونے والے خاندانوں اور تاجروں کے مستقبل کے بارے میں وضاحت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں حالیہ برسوں کے دوران سیوریج اور پینے کے پانی کی پائپ لائنوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہیں، جبکہ فلائی اوور کی تعمیر سے بجلی کے بنیادی ڈھانچے سمیت یہ سہولیات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فلائی اوور کے بجائے امب پھلا، مانڈا، ہائی کورٹ، روپ نگر اور بن تالاب کے راستے اکھنور تک رنگ روڈ تعمیر کیا جائے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ ٹریفک کے مسئلے کا بہتر حل ثابت ہوسکتا ہے اور اس سے دکانداروں اور مقامی لوگوں کی روزی روٹی بھی متاثر نہیں ہوگی۔
مظاہرین نے الزام لگایا کہ بغیر پیشگی اطلاع اور مناسب مشاورت کے نشاندہی کا عمل شروع کرکے دکانوں پر نشانات لگائے گئے ہیں اور مٹی کی جانچ بھی شروع کردی گئی ہے۔
مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے مقامی لوگوں سے بات چیت کے بغیر فلائی اوور کی تعمیر کی کارروائی آگے بڑھائی تو احتجاجی تحریک تیز کی جائے گی۔ اس دوران مظاہروں، ریلیوں، دھرنوں اور بھوک ہڑتال کے علاوہ جموں بند کی کال دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر