
تہران، 24 اگست(ہ س)۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اس وقت شدید معاشی اور عسکری دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، لیکن ملک نے مشکلات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے مضبوطی اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی جنگی حالات کے باوجود حکومت عوام کی خدمت اور ملک کے معاملات کو معمول پر رکھنے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لا رہی ہے۔
مسعود پزشکیان کے مطابق ایران کے مخالفین ملک کو کمزور، ناکام اور زوال کا شکار دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن ایرانی عوام کے اتحاد اور اجتماعی عزم نے ان کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں عوام کا متحد رہنا ایران کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ایرانی صدر نے دعویٰ کیا کہ دشمن نے ایران کو وینزویلا جیسی صورتحال سے دوچار کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم یہ منصوبہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ ان کے مطابق جنگی حالات اور شدید مشکلات کے باوجود ایرانی عوام نے متحد ہوکر ملک کے مفادات کا دفاع کیا۔انہوں نے کہا کہ عوام کے متفقہ مؤقف اور ملک کو درپیش چیلنجز کے پیش نظر مفاہمت کی ایک یادداشت تک پہنچنے میں مدد ملی۔
مسعود پزشکیان نے بتایا کہ ماہرین نے اس مفاہمتی یادداشت کو مصلحت، عزت اور دانائی پر مبنی قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق اس مفاہمت کا مقصد موجودہ حالات میں ایران کے قومی مفادات کا تحفظ اور ملک کو درپیش مشکلات کو کم کرنا ہے۔ایرانی صدر نے مفاہمت کی مخالفت کرنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اس عمل کی مخالفت کر رہے ہیں، وہ موجودہ صورتحال اور اس کے تقاضوں کو درست طور پر نہیں سمجھ رہے۔انہوں نے کہا کہ ایران مشکل حالات کے باوجود اپنے راستے پر آگے بڑھ رہا ہے اور عوام کا اتحاد ملک کو درپیش معاشی اور عسکری دباؤ کا مقابلہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ایرانی صدر نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ ملک کو درپیش بحرانوں سے نمٹنے کے لیے قومی اتحاد اور عوامی حمایت بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف دباؤ اور مشکلات کے باوجود عوام نے جس اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے، اس نے ملک کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کی اولین ترجیح عوام کی خدمت، قومی مفادات کا تحفظ اور ملک کو درپیش مشکلات پر قابو پانا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan