پٹنہ جاب فیئر میں بڑے پیمانے پر ملازمت فراہم کرنے کے سرکاری دعوے پر ڈاکٹر چکرپانی ہمانشونے سوالات کھڑے کئے
بھاگلپور، 24 اگست (ہ س)۔ بہار اسٹیٹ چائلڈ لیبر کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر چکرپانی ہمانشو نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے دعووں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کے بیانات کو ’غیر حقیقی‘ اور ہوا ۔ ہوائی ‘ قرار دیا۔ ڈاکٹر ہمانشو نے پیر کے روز کہا
ملازمت اور تقرری میلہ مکمل طور پر ہوا ۔ ہوائی، حکومت کو منتخب نوجوانوں کی فہرست کو عام کرنا چاہیے: ڈاکٹر چکرپانی ہمانشو


بھاگلپور، 24 اگست (ہ س)۔ بہار اسٹیٹ چائلڈ لیبر کمیشن کے سابق چیئرمین ڈاکٹر چکرپانی ہمانشو نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے دعووں کو سختی سے مسترد کیا ہے۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کے بیانات کو ’غیر حقیقی‘ اور ہوا ۔ ہوائی ‘ قرار دیا۔ ڈاکٹر ہمانشو نے پیر کے روز کہا کہ وزیر اعلیٰ کے دعوے کے مطابق 19 سے 23 اگست تک منعقدہ پٹنہ جاب فیئر میں 115 کمپنیوں نے 20,206 نوجوانوں کو ملازمت کے لیے منتخب کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر اس پوری فہرست کو عام کرے۔ حکومت واضح کرے کہ کن نوجوانوں کو کس کمپنی سے ملازمت ملی اور ہر ماہ کتنی تنخواہ ان کے بینک کھاتوں میں جمع کی جائے گی۔

سابق چیئرمین نے محکمہ لیبر ریسورس کی کارکردگی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ محکمے میں بے تحاشا کرپشن ہے۔ نیا روزگار فراہم کرنا تو دور کی بات، یہاں تک کہ وہ لوگ جو پہلے سے مال، دکانوں، تجارتی اداروں اور پیٹرول پمپوں میں ملازم ہیں ان کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ضابطوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ان عملہ کو بینک کھاتوں کی بجائے صرف سات، آٹھ یا نو ہزار روپے دیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ لیبر ریسورس ڈیپارٹمنٹ اس پوری اسکیم کے لیے کافی رقم وصول کر رہا ہے۔اینٹوں کے بھٹوں کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ہمانشو نے کہا کہ وہاں کے مزدوروں کو بھی بغیر کسی سرکاری منصوبہ بندی یا حفاظتی اقدامات کے کام کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان مزدوروں کو ان کے کھاتوں میں اجرت بھی نہیں دی جا رہی۔انہوں نے وزیر اعلیٰ کو مشورہ دیا کہ وہ زمینی تحقیقات کرائے بغیر بے بنیاد بیانات دینا بند کر دیں کیونکہ ایسے بیانات سے ان کی لاعلمی ہی کھلتی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Afzal Hassan


 rajesh pande