
جموں، 24 اگست (ہ س)۔
جموں و کشمیرکانگریس نے تنظیمی سرگرمیوں میں تیزی لاتے ہوئے ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل اوربیشتربلاکس میں بلاک صدور کی تقرری کا عمل مکمل کرلیا ہے۔ پارٹی نے اب جموں و کشمیرپردیش کانگریس کمیٹی کی نئی عاملہ کی تشکیل کواگلا ہدف قرار دیا ہے۔ جموں وکشمیر کانگریس کے انچارج اور راجیہ سبھا رکن ڈاکٹر سید ناصر حسین نے اپنے دو روزہ دورہ جموں و کشمیر کے دوران پردیش کانگریس صدرطارق حمید قرہ کے ساتھ مختلف اجلاس منعقد کیے۔ اس دوران ضلعی کمیٹیوں کے عہدیداروں کے ناموں کا اعلان کیا گیا اور بیشتر بلاکس میں صدور مقرر کیے گئے۔
ڈاکٹر ناصر حسین نے کہا کہ تنظیم سِرجن مہم-2 کے تحت جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں 11,500 فعال ارکان کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت ضلعی کمیٹیوں کے عہدیداروں اور بلاک صدور کا تقرر کیا گیا ہے۔ بیشتر ضلعی کمیٹیوں کی تشکیل مکمل ہو چکی ہے، جبکہ جموں رورل کی فہرست بھی جلد جاری کی جائے گی۔پارٹی ذرائع کے مطابق اب پردیش کانگریس کمیٹی کی عاملہ تشکیل دینے پرغورجاری ہے۔ طارق حمید قرہ کو پردیش صدر بنے تقریباً دو سال ہو چکے ہیں اور ضلعی و بلاک سطح کی تنظیم مکمل ہونے کے بعد عاملہ کے ارکان کے ناموں کو حتمی شکل دی جائے گی۔ اس سلسلے میں ہائی کمان سے مشاورت کی جائے گی۔دریں اثنا، ڈاکٹر ناصر حسین نے مرکزی بی جے پی حکومت پر جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے جنتَر منتر پر احتجاج کے دوران مبینہ طور پر پیلٹ فائرنگ سے متاثر ہونے والے ایک طالب علم کی ایف آئی آر درج کرنے میں تاخیر کا معاملہ اٹھایا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی، پرینکا گاندھی واڈرا اور دیگر سینئر کانگریس رہنماؤں کی مداخلت کے بعد تقریباً چھ گھنٹے کی کوششوں کے نتیجے میں ایف آئی آر درج کی گئی۔ ناصر حسین نے کہا کہ کسی جرم کی شکایت موصول ہونے پر ایف آئی آر درج کرنا پولیس کی قانونی ذمہ داری ہے اور اس میں غیرضروری تاخیر قانون کی حکمرانی اور جواب دہی کے حوالے سے تشویش پیدا کرتی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد اصغر