
علی گڑھ, 24 اگست (ہ س)۔
خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے زیر اہتمام بی اے اور ایم اے میں داخلہ لینے والے نئے طلبہ کے لیے ایک تعارفی و تربیتی نشست منعقد کی گئی جس میں مرکز کے اساتذہ، اسکالرز اور مرکز میں زیر تعلیم تمام طلبہ نے شرکت کی۔
اس تعارفی و تربیتی نشست کا بنیادی مقصد طلبہ کو خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن کے تعلیمی مقاصد، علمی روایات، نصابی ڈھانچے، تحقیقی امکانات اور دستیاب ادارہ جاتی وسائل سے واقف کرانا تھا۔ اس کے ساتھ ہی اس پروگرام کا مقصد نئے طلبہ کو یونیورسٹی کی سطح پر قرآنی مطالعات کے علمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور انہیں قرآنِ مجید کے مطالعے کے لیے مضبوط لسانی، تاریخی، ادبی، تفسیری اور بین العلومی مناہج اختیار کرنے کی ترغیب دینا بھی تھا۔
مرکز کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ارشد اقبال نے پاورپوائنٹ پرمبنی پیشکش کے ذریعہ مرکز کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔ انہوں نے طلبہ کو مرکز کے علمی و تعلیمی پس منظر، مختلف تعلیمی پروگراموں، تدریسی مقاصد، تحقیقی سرگرمیوں، علمی ماحول اور قرآنی مطالعات کے وسیع تر بین العلومی دائرہ کار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے اس امر پر خصوصی زور دیا کہ قرآنِ مجید کو محض ایک متنی موضوع کے طور پر نہیں، بلکہ اس کی زبان، ادبی اسلوب، علومِ قرآن، اصولِ تفسیر، فکری تاریخ اور عصرِ حاضر سے اس کی معنوی و فکری معنویت کے تناظر میں منظم اور تحقیقی انداز سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ارشد اقبال نے طلبہ کی علمی و تحقیقی نشوونما کے لیے دستیاب مختلف امکانات کو بھی اجاگر کیا اور انہیں تنقیدی فکر، تحقیقی منہج، مستقل مطالعے، علمی تجسس اور آزادانہ تحقیق کی صلاحیتیں پروان چڑھانے کی ترغیب دی۔
نشست کے دوران اس حقیقت کو بھی نمایاں کیا گیا کہ قرآنی مطالعات محض متن کے مطالعے تک محدود نہیں، بلکہ ایک وسیع اور بین العلومی علمی میدان ہے، جس میں عربی زبان و لسانیات، تفسیر، علومِ قرآن، اسلامی فکری تاریخ، ادب، اخلاقیات، فلسفہ اور عصرِ حاضر کے مختلف علمی مباحث شامل ہیں۔ طلبہ کو اس امر کی تلقین کی گئی کہ وہ ان موضوعات کا تنقیدی اور تحقیقی مطالعہ کریں، تاہم اس کے ساتھ قرآنِ مجید کے بنیادی مصادر اور مستند علمی و تفسیری روایت سے مضبوط ربط بھی برقرار رکھیں۔
یہ تعارفی و تربیتی نشست پروفیسر عبدالرحیم قدوائی، اعزازی ڈائریکٹر، خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن کی رہنمائی میں منعقد ہوئی۔
پروگرام کا اختتام علمی برتری، فکری جستجو، اخلاقی ذمہ داری اور قرآنی روایت سے مسلسل علمی وابستگی کے عزم کے ساتھ ہوا۔ اس تعارفی و تربیتی نشست نے شعبے میں نووارد طلبہ کو ان کے علمی سفر کے آغاز پر مرکز کے تعلیمی و تحقیقی ماحول سے مؤثر طور پر متعارف کرایا اور قرآنی مطالعات کے لیے ایک فعال، تحقیقی اور فکری ماحول کی تشکیل کے حوالے سے مرکز کے عزم کو مزید مستحکم کیا۔
‘‘قرآن میں صنفی انصاف’’ پر منعقدہ مضمون نویسی مقابلے کے نتائج کا اعلان
خلیق احمد نظامی مرکز علوم القرآن نے ‘‘قرآن میں صنفی انصاف’’ کے موضوع پر منعقدہ مضمون نویسی مقابلے کے نتائج کا اعلان کر دیا ہے۔ مقابلے میں انگریزی، اردو، ہندی اور عربی زبانوں میں 70 مضامین موصول ہوئے، جس میں انگریزی کے 40، اردو کے 15، ہندی کے 10 اور عربی کے پانچ مضامین شامل تھے۔
چاروں زمروں میں اوّل پوزیشن حاصل کرنے والوں میں اے ایم یو کے شعبہ حیوانیات کی بی ایس سی کی طالبہ سمیہ محی الدین (انگریزی)، شعبہ عربی کی ریسرچ اسکالر ساریہ ضمیر (اردو)، شعبہ قانون کے بی اے ایل ایل بی کے طالب علم مشاہد جاوید (ہندی) اور بی اے، قرآنی مطالعات کی طالبہ آمنہ بانو (عربی) شامل ہیں۔ مرکز کے اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے فاتحین کو مبارکباد پیش کی اور تمام شرکاء کی کاوشوں کو سراہا۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ