

تہران/واشنگٹن، 23 اگست (ہ س)۔ آبنائے ہرمز پر تسلط کو لے کر امریکہ اور ایران کے درمیان چھڑی جنگ اب مزید جارحانہ رخ اختیار کرنے والی ہے۔ امریکہ کی جانب سے بڑی معاشی جنگ کی وارننگ سے ایران میں کھلبلی ضرور مچ گئی ہے، لیکن وہ جھکنے کے لیے تیار نظر نہیں آ رہا۔ ایران نے اپنے پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر کسی نے اس محاذ پر امریکہ کا ساتھ دیا تو اسے ایران کا دشمن تصور کیا جائے گا اور ایسے ممالک کے خلاف دشمنوں کی طرح ہی کارروائی کی جائے گی۔ امریکہ پیر کے روز اہم اقدامات کا اعلان کر سکتا ہے، جس میں وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ امریکی منصوبے کی تفصیلات سامنے لائیں گے۔
رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے شروع کرنے کے بعد سے تقریباً 6 ماہ کی لڑائی کے باوجود، دونوں فریق اس وقت ایک دوسرے پر فائرنگ تو نہیں کر رہے ہیں، لیکن امن مذاکرات کی سمت آگے بڑھنے کے کوئی آثار بھی دکھائی نہیں دے رہے ہیں۔ ہرمز میں تیل کی ترسیل تقریباً مسدود ہو چکی ہے۔ تہران نے اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی غیر مجاز تیل بردار جہاز پر حملہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی معیشت پہلے ہی پابندیوں کے باعث شدید دباو کا شکار ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ پیر کو پریس کانفرنس میں ایران پر ’’تاریخ کی سخت ترین پابندیاں‘‘ عائد کرنے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ بیسنٹ نے چین سے بھی واشنگٹن کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی ہے۔ اینالیٹکس فرم ’کیپلر‘ کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق، چین ایران سے برآمد ہونے والے تیل کا 80 فیصد سے زائد حصہ خریدتا ہے۔
عرب نیوز، دی نیوز اور الجزیرہ کی رپورٹس کے مطابق، ایران نے پڑوسی ممالک کو امریکہ کی معاشی جنگ میں شامل ہونے کے خلاف متنبہ کرتے ہوئے تیل کی ترسیلی راہداریوں پر کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سکریٹری محسن رضائی نے کہا کہ تہران ایسے ممالک کو نشانہ بنائے گا۔ رضائی نے مزید کہا کہ ایران ان ممالک کو بھی جواب دے گا جنہوں نے امریکہ کو ملک پر معاشی جنگ مسلط کرنے میں مدد فراہم کی۔ رضائی کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف سخت ترین معاشی کارروائی کے منصوبے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ ٹرمپ نے تہران کو مالی یا دیگر امداد فراہم کرنے والے ممالک کو بھی سنگین معاشی نتائج بھگتنے کی دھمکی دی ہے۔
رضائی نے مقامی وقت کے مطابق ہفتہ کو سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ہمارے تمام پڑوسی ممالک امریکہ کے ساتھ معاشی جنگ میں شامل نہ ہوں، ورنہ ہم انہیں دشمن سمجھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پڑوسی ممالک نے صلاح نہیں مانی تو ایران خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے تیل کی برآمدات روک سکتا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک کہا کہ تیل کا ایک قطرہ بھی باہر نہیں جانے دیا جائے گا۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ نئی پابندیوں میں ایران کی معاشی لائف لائن سمجھے جانے والے وسائل (آئل اسمگلنگ نیٹ ورک، مالیاتی لین دین، ایکسچینج ہاوسز، جہازوں کی رجسٹریشن اور فرنٹ کمپنیوں) کو نشانہ بنایا جائے گا۔
ٹرمپ نے کہا، ’’یہ ایک ’اکنامک ڈی-ڈے‘ ہوگا۔ ایران کو تنہا کرنے اور شکست دینے کے لیے ہمیں اپنے تمام اتحادیوں کی ضرورت ہے کہ وہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ کھڑے ہوں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کو ایٹمی طاقت بننے کا خواب چھوڑنا ہوگا اور اسے ہتھیار نہیں رکھنے دیے جائیں گے۔ اس پر رضائی نے کہا کہ ٹرمپ نے عالمی ایٹمی تحفظ کو مستحکم کرنے کے بجائے جوہری عدم تحفظ کو جنم دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران کے خلاف واشنگٹن کے ان اقدامات سے دیگر ممالک میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی رغبت بڑھی ہے۔
ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے ٹرمپ کی جانب سے معاشی جنگ شروع کرنے کی دھمکی کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی پابندیاں ایرانی عوام کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام کی مذمت کی۔ دریں اثنا بلقان کے ملک بلغاریہ نے بتایا کہ ایران کی برہمی کے درمیان دو امریکی ٹینکر طیارے (کے سی-135) بلغاریہ سے روانہ ہو گئے ہیں۔ بلغاریہ کے وزیر دفاع دیمیتار اسٹوئیانوف نے بتایا کہ دو امریکی ٹینکر طیارے بلغاریہ کے بیزمر ایئر بیس سے روانہ ہوئے ہیں۔
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ کے روز کہا کہ امریکہ کا متوقع اعلان ’’اقوامِ متحدہ کے ہر آزاد رکن ملک پر اپنی جغرافیائی حدود سے باہر خود مختاری مسلط کرنے کے مترادف ہے۔‘‘ انہوں نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا، ’’بین الاقوامی قانون میں ایسی ’ثانوی‘ پابندیوں کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔‘‘
اس سے قبل ایرانی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران دشمن کی دھمکیوں کا عسکری طور پر ’’منہ توڑ، تادیبی اور تباہ کن جواب‘‘ دے گا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن