
واشنگٹن/اوٹاوا، 23 اگست (ہ س)۔ امریکہ نے ہفتے کی صبح کینیڈا سے درآمد کی جانے والی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا جب دونوں پرانے اتحادیوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے کی آخری کوشش بھی ناکام ہوگئی۔ کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ ان کا ملک 8 ستمبر سے اس اقدام کا سخت جواب دے گا۔
فاکس نیوز اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے جمعہ کی رات صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا نے رواں ہفتے کے آغاز میں طے شدہ شرائط کے تحت تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے ہفتے کو بتایا کہ فی الحال کینیڈا کے ساتھ مذاکرات کا کوئی نیا منصوبہ نہیں ہے۔ گریئر نے کہا کہ امریکہ کینیڈا کی جانب سے ممکنہ جوابی اقدامات کا جواب دینے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ کا مقصد امریکی کارکنوں اور ملک کی سپلائی چین کا تحفظ ہے۔انہوں نے کہا کہ واشنگٹن نے کینیڈا کو اسٹیل، آٹو موبائلز اور حتیٰ کہ لکڑی پر عائد ٹیرف کم کرنے کی پیشکش بھی کی تھی، لیکن اوٹاوا نے اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے ہفتے کو کہا کہ آنے والے دنوں میں حکومت نئے امریکی ٹیرف کے جواب میں کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات جاری کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اقدامات لیبر ڈے کے بعد منگل سے نافذ ہوں گے۔کارنی کے مطابق کینیڈا کی جانب سے ڈالر کے بدلے ڈالر کی بنیاد پر جوابی کارروائی کی جائے گی، جس میں اسٹیل، ڈیری مصنوعات، آلات، زرعی مشینری، پلپ اینڈ پیپر اور الیکٹرانکس سمیت مختلف شعبوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
کارنی نے کہا کہ اگر امریکہ اپنے ٹیرف میں نمایاں کمی کرتا اور امریکی شراب کی کینیڈین صوبوں میں فروخت بحال کرنے کے لیے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرتا تو کینیڈا اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو موبائلز پر عائد باقی جوابی ٹیرف ختم کرنے کے لیے تیار تھا۔ تاہم ان کے مطابق واشنگٹن کی آخری شرائط حد سے زیادہ تھیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر کینیڈا کے خلاف سخت بیان دیتے ہوئے الزام لگایا کہ کینیڈا بغیر امریکہ کی ریاست بنے بھی ریاست جیسا فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ کینیڈا کئی برسوں سے امریکی کسانوں کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرتا رہا ہے۔
دوسری جانب مارک کارنی نے مذاکرات کے ناکام ہونے کی ذمہ داری واشنگٹن پر عائد کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے آخری وقت میں مذاکرات کی شرائط میں کی گئی تبدیلیاں غیر منصفانہ اور معاشی طور پر غلط تھیں اور ان سے کسی بھی معاہدے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔کارنی کے مطابق امریکہ نے مذاکرات روک دیے اور کینیڈین مذاکراتی ٹیم کو اوٹاوا واپس آنے کی ہدایت کردی۔
امریکی صدر کے نئے درآمدی ٹیکس کا اثر کینیڈا سے ہر سال امریکہ بھیجی جانے والی مجموعی مصنوعات کے تقریباً 5 فیصد حصے پر پڑے گا۔ ان مصنوعات میں ہاکی اسٹکس سے لے کر طبی استعمال کے آلات تک مختلف اشیا شامل ہیں۔اگر کینیڈا بھی امریکی مصنوعات پر اسی نوعیت کے جوابی ٹیرف عائد کرتا ہے تو دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تنازع مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔ گزشتہ سال امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تقریباً 880 ارب ڈالر کی باہمی تجارت ہوئی تھی۔یہ ٹیرف بدھ کی رات 12 بج کر ایک منٹ سے نافذ ہونا تھا، تاہم صدر ٹرمپ نے مذاکرات جاری رکھنے کے لیے مقررہ مدت میں تین دن کی توسیع کی تھی۔ اس کے باوجود دونوں ممالک مقررہ وقت تک کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے۔اس سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا سے آنے والی بعض مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر رکھا تھا۔ کینیڈا، میکسیکو کے بعد امریکہ کا دوسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکہ اور کینیڈا کے تعلقات تجارت، نیٹو، ڈیٹرائٹ کے علاقے میں واقع سرحدی پل اور کینیڈا کو امریکہ کی 51ویں ریاست بنانے سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات کے باعث مسلسل کشیدہ رہے ہیں۔کینیڈا کے سب سے زیادہ آبادی والے صوبے اونٹاریو کے وزیر اعلیٰ ڈگ فورڈ نے وزیر اعظم مارک کارنی کے جوابی اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں وزیر اعظم کی مکمل حمایت حاصل ہے۔گزشتہ سال کینیڈا کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 72 فیصد حصہ امریکہ کو بھیجا گیا تھا۔ ماہرین کے مطابق نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ نئے ٹیرف عائد کرنے کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کر سکتی ہے، کیونکہ درآمدی ٹیکس کا ابتدائی بوجھ امریکی درآمد کنندگان پر پڑتا ہے اور وہ بڑھتی قیمتوں کے ذریعے اس اضافی لاگت کا بوجھ صارفین پر منتقل کرسکتے ہیں۔امریکی عوام پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ایران میں جاری جنگ نے بھی عالمی توانائی اور معیشت سے متعلق خدشات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan