
کاٹھمنڈو، 23 اگست(ہ س)۔ نیپال کی حکمراں جماعت راشٹریہ سوتنتر پارٹی (آر ایس پی) کے صدر روی لامیچھانے کا چین کا دورہ فی الحال ملتوی کر دیا گیا ہے۔ لامیچھانے کو 23 سے 30 اگست تک چین کا دورہ کرنا تھا۔اس سے قبل ان کے سکریٹریٹ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ اگست کے آخری ہفتے میں ہونے والا دورہ ستمبر کے وسط تک ملتوی کر دیا گیا ہے، تاہم اب فی الحال ان کا چین کا دورہ ہی منسوخ کردیا گیا ہے۔
اس سے پہلے بتایا گیا تھا کہ لامیچھانے 23 سے 30 اگست تک چین کے دورے پر اپنی اہلیہ نکیتا پودیل سمیت پانچ رکنی وفد کی قیادت کریں گے۔ پروگرام کے مطابق بیجنگ کے دورے کے بعد ان کی تبت میں واقع کیلاش مانسروور جانے کی بھی منصوبہ بندی تھی۔ذرائع کے مطابق چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات طے نہ ہونے کے علاوہ نیپال کی داخلی سیاسی صورتحال اور دیگر حالات میں تبدیلی کے پیش نظر لامیچھانے نے فی الحال اپنا دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دورے کی نئی تاریخ کے بارے میں پوچھے جانے پر لامیچھانے کے سکریٹریٹ کی جانب سے صرف اتنا کہا گیا کہ مناسب وقت آنے پر دورہ کیا جائے گا۔لامیچھانے کے قریبی ایک رہنما نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ دورہ مکمل طور پر منسوخ ہوگیا ہے، تاہم پارٹی صدر چین کب جائیں گے، اس بارے میں فی الحال کوئی حتمی تاریخ طے نہیں ہے۔
دریں اثنا، نیپال کے ارکان پارلیمنٹ کا ایک پانچ رکنی وفد سات روزہ دورے پر چین جانے والا ہے۔ یہ وفد بیجنگ میں منعقد ہونے والے ترقی پذیر ممالک کے ارکان پارلیمنٹ کے آٹھویں سیمینار میں شرکت کرے گا اور پیر کو چین کے لیے روانہ ہوگا۔
نمائندہ ایوان کے آر ایس پی رکن پارلیمنٹ کمل سوبیدی کی قیادت میں جانے والے وفد میں قومی اسمبلی کے ارکان جھکّو سوبیدی اور کرن بابو شریستھا، نمائندہ ایوان کے رکن یگیا بہادر بوگٹی اور وفاقی پارلیمنٹ کی نائب سکریٹری شاردا بھنڈاری شامل ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan