ایران کی اقتصادی جنگ میں شریک ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکی، محسن رضائی کا انتباہ
تہران،23اگست( ہ س)۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں واشنگٹن کا ساتھ دے گا، اسے تہران ’’دشمن‘‘ تصور کرے گا۔ ایرانی
ایران کی اقتصادی جنگ میں شریک ممالک کو سنگین نتائج کی دھمکی، محسن رضائی کا انتباہ


تہران،23اگست( ہ س)۔ ایران نے امریکہ کی جانب سے عائد کی جانے والی نئی اقتصادی پابندیوں کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے خلاف اقتصادی پابندیوں میں واشنگٹن کا ساتھ دے گا، اسے تہران ’’دشمن‘‘ تصور کرے گا۔

ایرانی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے ہفتے کی شام سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی ’’اقتصادی جنگ‘‘ میں شامل ہونے والے ممالک کو اس کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے پڑوسی ممالک سمیت دنیا کے تمام ممالک سے اپیل کی کہ وہ امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی اقتصادی جنگ کا حصہ نہ بنیں۔ رضائی نے واضح الفاظ میں کہا کہ جو ملک ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں شریک ہوگا، اسے ایران دشمن ملک تصور کرے گا۔

محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف ’’کوئی کارروائی‘‘ کی تو تہران کا ردعمل ’’زلزلے جیسا‘‘ ہوگا۔ایرانی عہدیدار کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتظامیہ ایران کے خلاف مزید سخت اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ نئی پابندیوں کا مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانا ہے۔

دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہ ای نے ملک کی موجودہ اقتصادی صورتحال پر غور کیا۔تینوں رہنماؤں نے ریاستی اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور مربوط اقدامات کے ذریعے عوام پر پڑنے والے معاشی دباؤ کو کم کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے مہنگائی، معاشی مشکلات اور عوام کے حالات زندگی بہتر بنانے کے لیے مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے دوران واشنگٹن تہران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرنے جا رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ آئندہ پیر کو ان پابندیوں کی تفصیلات پیش کریں گے۔

بیسنٹ نے نئی پابندیوں کو انتہائی سخت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کرنا چاہتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے بھی ان ممالک کو خبردار کیا ہے جو ایران کو کسی بھی شکل میں اقتصادی یا تجارتی سہارا فراہم کرتے ہیں۔واشنگٹن کی جانب سے پابندیوں کے دائرہ کار میں ایران کے اہم تجارتی شراکت داروں، خصوصاً چین پر بھی ممکنہ دباؤ کے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو مشکلات کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ ایرانی تیل کی برآمدات میں کمی اور ایندھن کی مارکیٹ پر دباؤ نے ملک کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت کے مسائل میں اضافہ کر دیا ہے۔ادھر صدر ٹرمپ نے جمعہ کو کہا کہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے، تاہم ان کے مطابق تہران ابھی ایسے معاہدے کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جسے واشنگٹن ’’درست معاہدہ‘‘ سمجھتا ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے ہوئے تھے۔ ان کا مقصد آبنائے ہرمز کے ذریعے آزادانہ بحری آمدورفت بحال کرنا اور تقریباً چھ ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا۔تاہم دونوں جنگ بندی معاہدے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے اور خطے میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔ موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے اقتصادی پابندیوں میں شریک ممالک کو دی جانے والی دھمکی نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری محاذ آرائی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande