
تہران/واشنگٹن،23اگست(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ نیویارک پوسٹ نے برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے تقریباً 200 بحری جہاز اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرے۔
رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 103 بحری جہاز آبنائے ہرمز میں داخل ہوئے، جبکہ 89 جہاز وہاں سے باہر نکلے۔ اس طرح مجموعی طور پر گزرنے والے جہازوں کی تعداد تقریباً 200 تک پہنچ گئی۔اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے مقابلے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ دو ہفتے قبل اس گزرگاہ سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد تقریباً 40 رہ گئی تھی۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ہفتے پانچ بحری جہاز ایرانی حملوں کی زد میں آئے، تاہم اس کے باوجود تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں اضافہ ہوا۔ امریکہ بھی آبنائے ہرمز سے تجارتی بحری جہازوں کی محفوظ آمدورفت میں مسلسل معاونت فراہم کر رہا ہے۔آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے بھی ہوئے۔ ان معاہدوں کا ایک اہم مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا اور کئی ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں جنگ بندی معاہدے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔حالیہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری سرگرمیاں دوبارہ بڑھ رہی ہیں، تاہم اس اہم گزرگاہ کی مکمل بحالی کا انحصار خطے میں سکیورٹی صورتحال اور امریکہ و ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی پر ہوگا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan