
تہران،22اگست(ہ س)۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تہران کے خلاف مزید سخت اقتصادی اقدامات اور پابندیوں کی دھمکی پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی خودمختار ملک کو اپنی جائز سیاسی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور کرنے کے لیے اقتصادی دباؤ ڈالنا بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان محض ایک ملک کے خلاف غیر قانونی ’’اقتصادی جنگ‘‘ تک محدود نہیں، بلکہ یہ اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی خودمختاری پر بیرونی اختیار مسلط کرنے کی کوشش بھی ہے۔
بقائی کے مطابق کسی بھی ملک کے دائر? اختیار میں کام کرنے والے بینکوں، کمپنیوں یا ہوائی اڈوں کو کسی دوسرے ملک کے دباؤ میں آکر کسی تیسرے ملک کے ساتھ قانونی تجارت ختم کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے امریکی پابندیوں کو ’’ثانوی پابندیاں‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں سے متصادم ہیں۔ایرانی ترجمان نے کہا کہ کسی خودمختار ریاست کو اقتصادی دباؤ کے ذریعے اپنی سیاسی ترجیحات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا بین الاقوامی قوانین کے تحت قابل قبول نہیں۔ ان کے بقول امریکہ کا یہ طرز عمل دوسرے ممالک کی خودمختاری کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔بقائی نے مزید خبردار کیا کہ اگر امریکی منصوبے کے تحت ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی اور دیگر اقتصادی اقدامات کیے گئے تو اس کے نتیجے میں ممالک کی خودمختاری ایک ایسی حیثیت اختیار کر سکتی ہے جو کسی بیرونی طاقت کی مرضی سے عارضی طور پر برقرار یا ختم کی جا سکے۔ انہوں نے اسے ’’روایتی استعمار کی واپسی‘‘ کی جانب خطرناک قدم قرار دیا۔
ایرانی ردعمل ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ مزید بڑھانے کی بات کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے ان ممالک کو بھی سخت اقتصادی نتائج کی دھمکی دی ہے جو ایران کو اہم معاونت فراہم کرتے رہیں گے۔ٹرمپ نے جمعہ کی شب گفتگو کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مذاکرات کے امکان پر بھی شکوک کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم نہیں کہ ایران میں وہ کس سے مذاکرات کریں، کیونکہ ان کے دعوے کے مطابق ایرانی قیادت کے بیشتر اہم افراد مارے جا چکے ہیں۔امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ موجودہ حالات میں کوئی شخص ایران کے صدر کا عہدہ سنبھالنے کے لیے تیار ہوگا۔ٹرمپ نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کے حوالے سے اپنے سخت موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس اہم بحری گزرگاہ کو ’’امریکی سرزمین‘‘ تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ٹرمپ کے مطابق ایران کسی معاہدے کے لیے بے حد بے تاب ہے، تاہم واشنگٹن ابھی یہ فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں کہ وہ تہران کے ساتھ معاہدہ کرنا بھی چاہتا ہے یا نہیں۔انہوں نے توقع ظاہر کی کہ ایران سے متعلق موجودہ کارروائیاں ختم ہونے کے بعد عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی میں اب اقتصادی پابندیوں، بحری ناکہ بندی، آبنائے ہرمز اور جوہری پروگرام جیسے معاملات مرکزی حیثیت اختیار کر چکے ہیں، جبکہ تہران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کو اپنی خودمختاری میں مداخلت تصور کرتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan