ایرانی ناکہ بندی کے بعد 68 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، 3 کو روکا گیا: سینٹ کام
واشنگٹن،22اگست(ہ س)۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی دوبارہ ناکہ بندی شروع کیے جانے کے بعد امریکی فوج نے درجنوں تجارتی بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا ہے۔سینٹ کام کے مطابق 13 جولائی کو ایران کے خلاف بحری ناکہ بن
ایرانی ناکہ بندی کے بعد 68 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا گیا، 3 کو روکا گیا: سینٹ کام


واشنگٹن،22اگست(ہ س)۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا ہے کہ ایران کی بندرگاہوں کی دوبارہ ناکہ بندی شروع کیے جانے کے بعد امریکی فوج نے درجنوں تجارتی بحری جہازوں کا راستہ تبدیل کرایا ہے۔سینٹ کام کے مطابق 13 جولائی کو ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے سے لے کر 21 اگست تک امریکی فوج نے 68 تجارتی بحری جہازوں کو اپنا راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا، جبکہ 3 جہازوں کو روکنے کے علاوہ مزید 2 بحری جہازوں پر سوار ہو کر تلاشی لی گئی۔

امریکی کمانڈ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں اس مقصد کے تحت کی گئیں کہ متعلقہ بحری جہاز امریکی ہدایات پر عمل کریں اور ایرانی بندرگاہوں سے متعلق عائد پابندیوں کی خلاف ورزی نہ کریں۔امریکہ اور ایران کے درمیان اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے ہوئے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا اور کئی ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں معاہدے زیادہ دیر برقرار نہیں رہ سکے۔

جنگ بندی کے ناکام ہونے کے بعد امریکہ نے 13 جولائی کو ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی۔ اس کے ساتھ ایرانی بحری جہازوں کی نقل و حرکت پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔امریکی اقدام کا بنیادی مقصد ایران کو تیل کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی سے محروم کرنا بتایا جا رہا ہے۔ تیل کی فروخت ایران کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ حاصل کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔امریکی پابندیوں اور بحری ناکہ بندی نے ایسے وقت میں ایران کے اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کیا ہے جب جنگ کے دوران ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو پہلے ہی مختلف حملوں سے نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

ایران کے لیے صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت، تیل کی برآمدات اور بین الاقوامی تجارت پر بڑھتی ہوئی پابندیاں اس کی معیشت پر براہ راست اثر انداز ہو رہی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande