
واشنگٹن،22اگست(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں معلوم نہیں کہ تہران میں وہ کس سے بات کریں، کیونکہ ایرانی قیادت کے متعدد اہم افراد مارے جا چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں شاید کوئی بھی شخص ایران کے صدر کی ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار نہ ہو۔ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر آبنائے ہرمز کے حوالے سے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو اس اہم بحری گزرگاہ پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ آبنائے ہرمز کو ’’امریکی سرزمین‘‘ تصور کرتے ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ان کے مطابق تہران اس وقت کسی معاہدے کے لیے بے حد بے تاب ہے، تاہم امریکہ خود اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا اسے ایران کے ساتھ معاہدہ کرنا بھی چاہیے یا نہیں۔ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران میں مہنگائی انتہائی بلند سطح پر پہنچ چکی ہے اور بعض حالات میں یہ 300 فیصد تک ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول ایرانی حکومت کو اپنے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی تنخواہیں ادا کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے خلاف اقتصادی دباؤ میں اضافے کا مطلب یہ نہیں کہ واشنگٹن کے فوجی اختیارات ختم ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کے پاس ایران کے خلاف مزید اقدامات کے تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔دوسری جانب امریکی حکومت تہران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ واشنگٹن ان پابندیوں کو ’’تاریخ کی سخت ترین مالی پابندیاں‘‘ قرار دے رہا ہے۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ پابندیوں کی تفصیلات پیر کو سامنے لائی جائیں گی۔ادھر ایران نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی نئی امریکی دھمکی کا جواب ’’تباہ کن‘‘ ہو سکتا ہے۔ تہران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی نئے اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ٹرمپ پہلے ہی ان ممالک کو اقتصادی نتائج کی دھمکی دے چکے ہیں جو ایران کو ’’کسی بھی قسم کی اہم معاونت‘‘ فراہم کریں گے۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ اس دباؤ کا مقصد ایران کو جوہری پروگرام سمیت مختلف معاملات پر قابل قبول معاہدے کے لیے مجبور کرنا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان رواں سال اپریل اور جون میں دو مرتبہ جنگ بندی کے معاہدے بھی ہوئے تھے۔ ان معاہدوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو معمول پر لانا اور کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا، تاہم دونوں جنگ بندی معاہدے زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکے۔موجودہ صورتحال میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول، ایران کا جوہری پروگرام اور نئی امریکی پابندیاں دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے اہم نکات بنے ہوئے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan