
انقرہ، 22 اگست (ہ س)۔ امریکہ نے کہا ہے کہ شمالی شام میں ابو الضہور ایئربیس پر اسرائیل کے حالیہ فضائی حملے کے حوالے سے تل ابیب کی خفیہ معلومات غلط تھیں۔ ترکیہ میں امریکی سفیر اور شام-عراق امور کے خصوصی ایلچی ٹام بیراک نے کہا کہ امریکہ اور ترکیہ کو حملے سے پہلے اس بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی تھی۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق، بیراک نے سوشل میڈیا پر کہا کہ انہیں حملے کی وجہ پوری طرح واضح نہیں ہے، لیکن امریکہ کی جانب سے کی گئی خفیہ تحقیقات میں اسرائیل کے دعوے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
بیراک کے مطابق، اسرائیل کو ایسی خفیہ معلومات ملی تھیں کہ ترکیہ شام کے ایک ایئربیس پر فوجی سازوسامان بھیج سکتا ہے۔ مبینہ طور پر اسرائیل نے یہ معلومات امریکہ کے ساتھ بھی شیئر کی تھیں۔
امریکہ نے اپنے خفیہ اداروں کے ذریعے اس دعوے کی جانچ کرائی۔ بیراک نے کہا کہ امریکی ایجنسیوں سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق یہ دعویٰ درست نہیں تھا۔
انہوں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا کہ اسرائیلی فوج، موساد اور وزیر اعظم کے دفتر کے درمیان کسی طرح کی غلط فہمی ہوئی ہو سکتی ہے۔
امریکی سفیر نے واضح کیا کہ اسرائیل نے ابو الضہور ایئربیس پر حملہ کرنے سے قبل نہ تو واشنگٹن اور نہ ہی ترکیہ کو اس کی اطلاع دی تھی۔
بیراک نے ترکیہ کی فوج کی تعریف کرتے ہوئے اسے مضبوط اور اچھی طرح سے لیس قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی فوج اپنی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور ان کے دفتر کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ ترکیہ کے فوجی شام میں مذکورہ ایئربیس پر تعینات ہونے کی کوشش کر رہے تھے اور جنوبی سمت میں فوجی ٹھکانے قائم کر رہے تھے۔
امریکی سفیر کے بیان کے بعد اس دعوے پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ تاہم، اسرائیل کی جانب سے امریکی بیان پر فوری طور پر کوئی نیا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے شمالی شام کے مشرقی ادلب صوبے میں واقع ابو الضہور ایئربیس کو نشانہ بنایا تھا۔ یہ ایئربیس فی الحال زیرِ استعمال نہیں ہے۔
شامی حکام کے مطابق، اسرائیلی طیاروں نے ایئربیس پر تقریباً آٹھ حملے کیے۔ بتایا گیا ہے کہ حملوں میں رن وے اور ہینگر میں موجود ایک غیر فعال ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔
فی الحال اس حملے میں کسی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ امریکی سفیر کے بیان کے بعد شام میں اسرائیل اور ترکیہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی اور فوجی سرگرمیوں کے حوالے سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد