
سیول، 22 اگست(ہ س)۔ شمالی کوریا نے جاپان کے مجوزہ ریکارڈ دفاعی بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے جارحانہ جنگ کی تیاری قرار دیا ہے۔ پیانگ یانگ نے خبردار کیا ہے کہ جاپان کے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے خلاف خطے کے ممالک متحد ہوکر سخت جواب دیں گے۔جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی یونہاپ اور دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپان کی وزارت دفاع نے آئندہ مالی سال کے لیے تقریباً 8.9 ٹریلین ین (تقریباً 60 ارب امریکی ڈالر) کے ریکارڈ دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے۔ سال کے آخر میں بجٹ کو حتمی منظوری ملنے کے بعد اس کے تقریباً 10 ٹریلین ین تک پہنچنے کا امکان ہے۔شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے نے جاپان کے دفاعی بجٹ سے متعلق ملک کے اہم اخبار ’روڈونگ سنمن‘ میں شائع ہونے والے ایک تبصرے کا حوالہ دیا۔ تبصرے میں کہا گیا کہ فوجی بجٹ میں مسلسل اضافہ خطے اور دنیا میں عدم استحکام پیدا کرنے والا ایک خطرناک قدم ہے۔شمالی کوریا کا الزام ہے کہ جاپان اپنے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے ذریعے ہتھیاروں کا ذخیرہ بڑھانے اور جارحانہ جنگ کی تیاری کررہا ہے۔
پیانگ یانگ نے کہا کہ عالمی برادری جاپان کی بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی کو قبول نہیں کرے گی اور اس کے خلاف متحد ہوکر جواب دے گی۔شمالی کوریا نے جاپان کے امریکی ساختہ ٹام ہاک کروز میزائلوں کو اپنی فوجی صلاحیت کا حصہ بنانے کے فیصلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔رپورٹ میں جاپان کے بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے ساتھ اس کے بھاری قومی قرض کا بھی حوالہ دیا گیا۔ شمالی کوریا کے مطابق گزشتہ سال کے اختتام پر جاپان کا قومی قرض تقریباً 1,343 ٹریلین ین کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گیا تھا۔پیانگ یانگ نے الزام لگایا کہ ٹیکس دہندگان کی رقم کا اتنا بڑا حصہ فوجی شعبے پر خرچ کرنا جاپان کو ایک پرامن ملک بنانے کے مقصد سے نہیں کیا جارہا۔
شمالی کوریا نے جاپان کی جانب سے دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے ’دفاع‘ اور ’خود دفاع‘ کی اصطلاحات استعمال کرنے کے جواز کو بھی مسترد کردیا۔پیانگ یانگ کا کہنا ہے کہ جاپان ان اصطلاحات کی آڑ میں اپنی فوجی صلاحیتوں کو وسعت دینے اور مبینہ طور پر جارحانہ فوجی پالیسی کو چھپانے کی کوشش کررہا ہے۔
جاپان کی جانب سے مجوزہ ریکارڈ دفاعی بجٹ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقی ایشیا میں سلامتی کے حوالے سے کشیدگی پہلے ہی برقرار ہے۔ شمالی کوریا کے میزائل پروگرام، جاپان کی بڑھتی دفاعی صلاحیت اور امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کے درمیان بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے باعث خطے میں مزید کشیدگی کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan