
واشنگٹن، 21 اگست(ہ س)۔
امریکا کا جوہری توانائی سے چلنے والا طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جارج واشنگٹن مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے، جہاں وہ طویل عرصے سے تعینات یو ایس ایس ابراہام لنکن کی جگہ لے گا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق جارج واشنگٹن کیریئر اسٹرائیک گروپ نے 19 اگست کو سینٹرل کمانڈ کے دائر? کار میں داخل ہونے کے بعد خطے میں اپنی معمول کی تعیناتی شروع کردی ہے۔
جارج واشنگٹن نے 20 اگست کو بحیرہ عرب میں سفر کیا۔ اس کے ساتھ یو ایس ایس رابرٹ اسمالز نامی کروزر اور یو ایس ایس شوپ ڈسٹرائر بھی موجود ہیں۔ امریکی بحریہ کے مطابق یہ تعیناتی شیڈول کے تحت کی گئی ہے اور اس کا بنیادی مقصد خطے میں موجود ابراہام لنکن کیریئر اسٹرائیک گروپ کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
یو ایس ایس ابراہام لنکن گزشتہ نو ماہ سے زائد عرصے سے مشرق وسطیٰ میں تعینات تھا اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران امریکی فوجی کارروائیوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا۔ اس طویل تعیناتی کے باعث جہاز پر موجود تقریباً 5 ہزار اہلکاروں کی جسمانی اور ذہنی صحت کے حوالے سے بھی خدشات سامنے آئے۔امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابراہام لنکن پر خوراک، حفظانِ صحت کی اشیا، ڈاک کی ترسیل اور بعض بنیادی سہولتوں سے متعلق مسائل کی شکایات سامنے آئی تھیں۔ بعض اہلکاروں کے اہل خانہ نے جہاز پر طویل تعیناتی اور مسلسل آپریشنز کے باعث ذہنی دباؤ اور تھکن کی شکایات بھی اٹھائی تھیں۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے بھی جہاز کے عملے کو درپیش مشکلات اور تھکن کا اعتراف کیا تھا، تاہم امریکی حکام نے اہلکاروں کی خدمات اور مسلسل آپریشنل کارکردگی کو سراہا ہے۔
جارج واشنگٹن کی مشرق وسطیٰ میں آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب ایران کے ساتھ امریکی کشیدگی اور خطے میں فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اس کیریئر کی تعیناتی سے مشرق وسطیٰ میں امریکی بحری طاقت مزید مستحکم ہوگی۔دوسری جانب جارج واشنگٹن کی ایشیا بحرالکاہل سے مشرق وسطیٰ منتقلی نے امریکی فوجی حکمت عملی پر بھی سوالات کھڑے کیے ہیں۔ اس منتقلی کے نتیجے میں مغربی بحرالکاہل میں عارضی طور پر امریکی طیارہ بردار جہاز کی موجودگی ختم ہوگئی ہے، جس پر بعض ماہرین نے چین کے بڑھتے ہوئے فوجی اثر و رسوخ کے تناظر میں تشویش ظاہر کی ہے۔امریکی بحریہ کے مطابق ابراہام لنکن کی واپسی فوری طور پر مکمل نہیں ہوگی اور اسے امریکا کے مغربی ساحل تک پہنچنے میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ یوں جارج واشنگٹن کی تعیناتی خطے میں امریکی بحری موجودگی برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ طویل عرصے سے تعینات عملے کو ریلیف دینے کی کوشش بھی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan