پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، سخت سیکورٹی کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل واپسی
اسلام آباد،21اگست(ہ س)۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔ بعد ازاں انہیں سخت سیکیور
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل، سخت سیکورٹی کے بعد دوبارہ اڈیالہ جیل واپسی


اسلام آباد،21اگست(ہ س)۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اڈیالہ جیل سے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔ بعد ازاں انہیں سخت سیکیورٹی حصار میں دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔عمران خان کی اسپتال منتقلی کی تصدیق پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان اور اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بھی کی تھی، تاہم ابتدائی طور پر اسلام آباد انتظامیہ یا حکومت کی جانب سے اس بارے میں باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا تھا۔ذرائع کے مطابق عمران خان کو اسپتال میں طبی معائنے کے لیے لایا گیا تھا اور ان کے علاج کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے۔ اسپتال میں چھ ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل ٹیم کی جانب سے ان کا چیک اپ کیے جانے کی اطلاعات تھیں، جس کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرنے یا واپس جیل منتقل کرنے کا فیصلہ ہونا تھا۔ بعد میں انہیں اسپتال سے واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا، جہاں انہیں دوبارہ ان کے سیل میں منتقل کردیا گیا۔واضح رہے کہ 18 اگست کو پاکستان کی سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل میں قید عمران خان کو دو روز کے اندر شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کے لیے ایک میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی تھی، جس میں ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان اور ان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی شمولیت کی بات سامنے آئی تھی۔اسپتال منتقلی کے معاملے پر گزشتہ روز سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس نے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے خلاف دائر نظرثانی درخواست بعض اعتراضات عائد کرتے ہوئے واپس کردی تھی۔عمران خان کی شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقلی کی اطلاعات کے بعد پی ٹی آئی کی قیادت نے کارکنوں سے اسپتال کے باہر جمع نہ ہونے کی اپیل کی۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ پارٹی قیادت، عمران خان کے خاندان اور کور کمیٹی کی باہمی مشاورت سے یہ متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کیے جانے کے بعد پارٹی کا کوئی کارکن اسپتال کے سامنے جمع نہیں ہوگا۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی شخص اس ہدایت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسپتال کے باہر جمع ہونے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی جنید اکبر نے بھی کارکنوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ واقعی عمران خان سے محبت کرتے ہیں، وہ ان کے علاج میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ کریں اور ایسا کوئی قدم نہ اٹھائیں جس سے ان کے علاج میں خلل پڑے۔عمران خان کی منتقلی کے پیش نظر شفا انٹرنیشنل اسپتال اور اس کے اطراف سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے۔ اسلام آباد پولیس نے اسپتال کی جانب جانے والے متعدد راستے عام ٹریفک کے لیے بند کردیے جبکہ اسپتال کے باہر اور اطراف میں پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی۔عمران خان کی اسپتال منتقلی سے قبل اسلام آباد کے آئی جی پولیس نے اعلیٰ افسران کے ہمراہ شفا انٹرنیشنل اسپتال کا دورہ کرکے سیکیورٹی انتظامات کا جائزہ بھی لیا تھا۔دوسری جانب وفاقی وزیر طارق فضل چودھری نے عمران خان کو علاج کے لیے بیرونِ ملک بھیجے جانے کے امکان کا بھی اظہار کیا تھا، تاہم فی الحال عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال میں طبی معائنے کے بعد واپس اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا ہے۔عمران خان کی صحت، طبی معائنے اور آئندہ علاج سے متعلق مزید فیصلہ میڈیکل رپورٹ اور ڈاکٹروں کی سفارشات کی روشنی میں کیے جانے کا امکان ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande