
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ کنٹرول اینڈ آٹومیشن سیکٹر میں ٹرن-کی سلوشن فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ پی ایل سی پینل سروس دینے والی کمپنی اسکائی ٹیک انفینیٹ پلیٹ فارم پرائیویٹ لمیٹڈ کے شیئروں نے آج شیئربازارمیں کمزورشروعات کرکے اپنے آئی پی او سرمایہ کاروں کو مایوس کر دیا۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 77 روپے کی قیمت پر جاری کیے گئے تھے۔
آج این ایس ای کے ایس ایم ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ 3.90 فیصد ڈسکاونٹ کے ساتھ 74 روپے کی سطح پر ہوئی۔ لسٹنگ کے بعد فروخت کا دباو بننے کے سبب یہ شیئر کچھ ہی دیر میں گر کر 70.30 روپے کے لوئر سرکٹ لیول پر آ گیا۔ اس طرح پہلے دن کے کاروبار میں ہی کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو فی شیئر 6.70 روپے یعنی 8.70 فیصد کا نقصان ہو گیا۔اس کمپنی کا 22.68 کروڑ روپے کا آئی پی او 14 سے 18 اگست کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے اوسط رسپانس ملا تھا، جس کی وجہ سے یہ مجموعی طور پر 2.04 گنا سبسکرائب ہو سکا تھا۔ ان میں کوالیفائیڈ انسٹی ٹیوشنل بائرس (کیو آئی بی) کے لیے مخصوص حصہ 1.06 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔ اسی طرح نان انسٹی ٹیوشنل انویسٹرز (این آئی آئی) کے لیے مخصوص حصے میں 0.72 گنا سبسکرپشن آیا تھا۔ اس کے علاوہ ریٹیل انویسٹرز کے لیے مخصوص حصہ 3.36 گنا سبسکرائب ہوا تھا۔اس آئی پی او کے تحت 10 روپے فیس ویلیو والے کل 29,45,600 شیئر جاری کیے گئے ہیں۔ آئی پی او میں شیئروں کی فروخت سے حاصل کی گئی رقم کا استعمال کمپنی اپنے پرانے قرض کے بوجھ کو کم کرنے، ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے کرے گی۔اسکائی ٹیک انفینیٹ پلیٹ فارم پرائیویٹ لمیٹڈ کی مالی حالت کی بات کریں تو کیپیٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کے پاس جمع کرائے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی) میں کیے گئے دعوے کے مطابق اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہوئی ہے۔ مالی سال 2024-2023 میں کمپنی کو 1.35 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا، جو اگلے مالی سال 2025-2024 میں بڑھ کر 3.71 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2026-2025 میں کمپنی کو 4.20 کروڑ روپے کا خالص منافع ہوا تھا۔اس دوران کمپنی کے ریونیو میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2024-2023 میں اسے 44.15 کروڑ روپے کا کل ریونیو حاصل ہوا، جو مالی سال 2025-2024 میں بڑھ کر 45.21 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2026-2025 میں کمپنی کو 52.14 کروڑ روپے کا ریونیو ملا تھا۔اس مدت میں کمپنی پر واجب الادا قرض کے بوجھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2024-2023 کے اختتام پر کمپنی پر 3.90 کروڑ روپے کے قرض کا بوجھ تھا، جو اگلے مالی سال 2025-2024 میں بڑھ کر 5.39 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2026-2025 کی بات کریں، تو اس دوران کمپنی پر قرض کا بوجھ بڑھ کر 9.25 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اس مدت میں کمپنی کی نیٹ ورتھ میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2024-2023 میں یہ 11.10 کروڑ روپے کی سطح پر تھی۔ اسی طرح 2025-2024 میں کمپنی کی نیٹ ورتھ بڑھ کر 14.81 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2026-2025 میں یہ 19.02 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔کمپنی کے ریزرو اور سرپلس کی بات کریں تو اس مدت میں کمپنی کو اس محاذ پر اتار چڑھاو کا سامنا کرنا پڑا۔ مالی سال 2024-2023 میں یہ 10.48 کروڑ روپے کی سطح پر تھا۔ اسی طرح 2025-2024 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس گھٹ کر 7.94 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2026-2025 میں کمپنی کا ریزرو اور سرپلس بڑھ کر 12.14 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔اسی طرح ای بی آئی ٹی ڈی اے (ارننگ بیفور انٹرسٹ، ٹیکسز، ڈیپریسی ایشن اینڈ امورٹائزیشن) 2024-2023 میں 3.09 کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 2025-2024 میں بڑھ کر 6.13 کروڑ روپے کی سطح پر آ گیا۔ وہیں گزشتہ مالی سال 2026-2025 میں کمپنی کا ای بی آئی ٹی ڈی اے بڑھ کر 6.65 کروڑ روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن