آبنائے ہرمز میں ایران کا دباؤ برقرار، بیشتر بحری جہاز ایرانی راستے سے گزر رہے ہیں
تہران/دبئی، 21 اگست(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بیشتر جہاز امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے قریب سے گزرنے والے بحری راستے کو اختیار کر رہے ہیں۔ امری
آبنائے ہرمز میں ایران کا دباؤ برقرار، بیشتر بحری جہاز ایرانی راستے سے گزر رہے ہیں


تہران/دبئی، 21 اگست(ہ س)۔ آبنائے ہرمز میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باوجود بحری جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق بیشتر جہاز امریکی دباؤ کے باوجود ایران کے قریب سے گزرنے والے بحری راستے کو اختیار کر رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر کنٹرول رکھتی ہے، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی جہاز اس راستے سے نہیں گزر سکتا۔ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں سے منسلک جہازوں کے خلاف بحری ناکہ بندی بھی قائم کر رکھی ہے۔سمندری نگرانی کے ادارے کیپلر کے مطابق یکم سے 19 اگست کے درمیان تیل، ایل پی جی اور ایل این جی لے جانے والے 112 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں 21 نے ایرانی راستہ اور صرف دو نے عمانی راستہ اختیار کیا، جبکہ 89 جہازوں نے اپنی نقل و حرکت ظاہر نہیں کی۔

تمام مال بردار جہازوں کو شامل کیا جائے تو اس عرصے میں 236 جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ان میں 83 نے ایرانی راستہ، تین نے عمانی راستہ اور دو نے سابقہ مرکزی راستہ اختیار کیا، جبکہ 148 جہازوں نے اپنی نقل و حرکت خفیہ رکھی۔کشیدگی کے دوران متعدد جہازوں نے اپنی درست پوزیشن چھپانے کے لیے خودکار شناختی نظام(اے آئی ایس) بند کردیا ہے۔ بعض خلیجی ممالک بھی تیل اور دیگر سامان کی ترسیل کے لیے متبادل راستے اور سمندر میں ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں سامان منتقل کرنے کے طریقے استعمال کر رہے ہیں۔8 اگست کو متحدہ عرب امارات نے ایران پر ابوظبی نیشنل آئل کمپنی کے ایک ٹینکر کو میزائل سے نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا۔ کمپنی کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اس کے 15 جہاز میزائل اور ڈرون حملوں کی زد میں آچکے ہیں۔آبنائے ہرمز سے جنگ سے قبل دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی تھی اور روزانہ تقریباً 130 جہاز اس راستے سے گزرتے تھے۔حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی منڈی بھی متاثر ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل برینٹ خام تیل تقریباً 66 ڈالر فی بیرل تھا، جو مارچ میں 119 ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ بعد میں قیمتوں میں کمی آئی، تاہم حالیہ کشیدگی کے بعد جمعرات کو برینٹ خام تیل تقریباً 92.9 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande