ڈی جی جی آئی نے یوپی میں 185 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف کیا، پان مسالہ فیکٹری کا مالک گرفتار
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی) نے اتر پردیش میں پان مسالہ اور تمباکو کی غیر قانونی تجارت پر ایک بڑی اور سخت کارروائی کی ہے۔ ڈی جی جی آئی نے تقریبا 185 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا پردہ فاش کیا ہے اور ف
ٹیکس


نئی دہلی، 21 اگست (ہ س)۔ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف جی ایس ٹی انٹیلی جنس (ڈی جی جی آئی) نے اتر پردیش میں پان مسالہ اور تمباکو کی غیر قانونی تجارت پر ایک بڑی اور سخت کارروائی کی ہے۔ ڈی جی جی آئی نے تقریبا 185 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا پردہ فاش کیا ہے اور فیکٹری کے مالک کو گرفتار کیا ہے، جسے جیل بھیج دیا گیا ہے۔

وزارت خزانہ کے مطابق، ڈی جی جی آئی کی لکھنو¿ علاقائی اکائی نے اتر پردیش کے چترکوٹ اور باندہ اضلاع میں چھ احاطوں میں پھیلے ہوئے پان مسالہ، خوشبودار زردہ اور گٹکھا کی غیر قانونی تیاری کے نیٹ ورک کا پردہ چاک کیا ہے۔ تلاشی کے دوران 27 غیراعلانیہ پاو¿چ پیکنگ مشینوں کا پتہ چلا، جن میں خوشبودار زردہ کے لیے 6، پان مسالہ کے لیے 9 اور دوہرا/دیسی گٹکھا کے لیے 12 مشینیںبھی شامل ہیں۔ آپریشن کے دوران پان مسالہ، چیونگ تمباکو، خوشبودار زردہ اور خوشبودار سپاڑی کے کھانے کے لیے 15,50,922تیار پاو¿چ ضبط کیے گئے۔

وزارت نے کہا کہ ضبط شدہ خام اور پیک شدہ مواد میں 32.9 میٹرک ٹن سپاڑی اور کٹے ہوئے سپاڑی، 2.8 میٹرک ٹن تمباکو، 8.4 میٹرک ٹن پیکنگ مواد، پاو¿چ اور لیمینیٹس، 470 کلوگرام کتھھا پاو¿ڈر، 850 کلوگرام گلسرین، 545 کلوگرام ایسنس اور 256 کلوگرام غیر پیک شدہ پان مسالہ شامل ہیں۔ اب تک گڈز اینڈ سروسز ٹیکس (جی ایس ٹی)، ایچ ایس این ایس سیس اور سنٹرل ایکسائز ڈیوٹی کی تقریبا 185 کروڑ روپے کی چوری کا پتہ چلا ہے۔

وزارت نے کہا کہ یکم فروری سے ملک بھر میں ڈی جی جی آئی کی مختلف اکائیوں کے ذریعے پیداوار کو چھپانے، خفیہ طور پر نکالنے اور قابل اطلاق ٹیکس/سیس کی چوری کے 27 معاملے درج کیے گئے ہیں۔ ان معاملات میں 668 کروڑ روپے کی ڈیوٹی، ٹیکس اور سیس کی چوری کا پتہ چلا ہے۔ اس تفتیش کے دوران رضاکارانہ طور پر 11.7 کروڑ روپے کی رقم جمع کرائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اب تک کل 131 پاو¿چ پیکنگ مشینیں ضبط کی گئی ہیں اور 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande