
نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔ سپریم کورٹ نے کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کےجنتر منتر پر احتجاج سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک پانچ رکنی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے اس احتجاج سے متعلق تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس آر سبھاش ریڈی کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اس کمیٹی میں سابق جج جسٹس روی شنکر جھا، سابق جج جسٹس شلیندر کور، سابق سی بی آئی ڈائریکٹر رشی کمار شکلا اور سابق ڈی جی پی ڈاکٹر ایل آر بشنوئی شامل ہیں۔
اس سے قبل 18 اگست کو سپریم کورٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سی جے پی کے احتجاج سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دے گی۔ یہ کمیٹی پولیس کی زیادتیوں اور پولیس افسران کے خلاف تشدد جیسے معاملات کی تحقیقات کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کو حقائق کا پتہ لگانے کا کام سونپا جائے گا اور وقتاً فوقتاً رپورٹ پیش کرنے کو کہا جائے گا تاکہ عدالت ضروری ہدایات جاری کر سکے۔
عدالت نے کہا کہ ہم کمیٹی کو تمام ضروری انفراسٹرکچر فراہم کرائیں گے اورہمیں پورا یقین ہے کہ کمیٹی اپنے پاس آنے والے کسی بھی متاثرہ شخص کی بات کو فوری طور پرسنے گی اور انہیں اپنی بات رکھنے کا پورا موقع دے گی۔ عدالت کمیٹی کی وقتاً فوقتاً سفارشات کا انتظار کرے گی اور پھر ضروری کارروائی کرے گی۔ عدالت نے کہا کہ کمیٹی خواتین مظاہرین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے، آن لائن ہراساں کرنے اور سوشل میڈیا کے ذریعے دیگر کمزور افراد کو ہراساں کرنے کے الزامات کی تحقیقات کرے گی۔
سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کر کے مطالبہ کیا گیا تھا کہ طلبا کے احتجاج کی آڑ میں نازیبا زبان کااستعمال کرنے والے نوجوانوں کو سات دن کی کمیونٹی سروس دی جائے۔ احتجاج کے منتظمین کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔ پچھلے مہینے، کاکروچ جنتا پارٹی نے پیپر لیک کے معاملے پر جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا۔طلبا کے پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی بربریت کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد