

دہلی ماسٹر پلان 2047 جاری، 40 لاکھ نئے مکانات، 695 کلومیٹر تک میٹرو کی توسیع
نئی دہلی، 20 اگست (ہ س)۔
مرکزی حکومت نے قومی دارالحکومت کی آئندہ دو دہائیوں کی منظم، پائیدار اور جامع ترقی کے لیے ’ماسٹر پلان فار دہلی 2047‘ (ایم پی ڈی-2047) جاری کر دیا ہے۔ اس ماسٹر پلان میں سال 2047 تک 3.2 کروڑ کی متوقع آبادی کے لیے 30 سے 40 لاکھ نئے مکانات تیار کرنے، دہلی میٹرو کے نیٹ ورک کو 695 کلومیٹر تک وسعت دینے، ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ (ٹی او ڈی) میں زیادہ سے زیادہ ایف اے آر 500 کرنے اور 30 میٹر یا اس سے زیادہ چوڑی سڑکوں سے متصل رہائشی پلاٹوں پر فیس کے ساتھ تجارتی سرگرمیوں کی اجازت دینے کا التزام کیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر برائے ہاوسنگ و شہری امور نیز بجلی منوہر لال، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ سندھو اور دہلی کی وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا نے جمعرات کے روز یہاں نیشنل میڈیا سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں ماسٹر پلان کا باضابطہ اجرا کیا۔
ماسٹر پلان کا مقصد سال 2047 تک دہلی کو اعلیٰ معیارِ زندگی، سستے مکانات، جدید پبلک ٹرانسپورٹ، مضبوط بنیادی ڈھانچے اور صاف ستھرے و سرسبز ماحول والا شہر بنانا ہے۔ یہ منصوبہ وزیر اعظم نریندر مودی کے ’وکست بھارت 2047‘ کے قومی وژن کے عین مطابق تیار کیا گیا ہے۔
منوہر لال نے کہا کہ دہلی کا کل رقبہ 1,483 مربع کلومیٹر پر محدود ہے۔ سال 1991 میں دہلی کی آبادی 94 لاکھ تھی، جو سال 2001 میں بڑھ کر 1.38 کروڑ اور سال 2021 میں 2.12 کروڑ ہو گئی۔ موجودہ میں یہ تقریباً 2.40 کروڑ ہے۔ سال 2047 تک اس کے 3.20 کروڑ تک پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہلی کے تمام 357 گاوں شہری شکل اختیار کر چکے ہیں۔ فی الحال تقریباً 520 مربع کلومیٹر زرعی اراضی بچی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے درمیان جمنا کھادر کے تقریباً 180 مربع کلومیٹر رقبے اور دہلی رِج کے جنگلاتی علاقے کو محفوظ رکھا جائے گا۔ اس کے علاوہ دستیاب اراضی کا گنجان اور کثیر المقاصد استعمال کیا جائے گا۔
ماسٹر پلان میں رہائش کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ سال 2047 تک آبادی میں ممکنہ 80 لاکھ کے اضافے اور خاندانوں کی تقسیم کے پیشِ نظر 30 سے 40 لاکھ نئے فلیٹس اور مکانات تیار کیے جائیں گے۔ ان میں بڑی تعداد کم لاگت والے (سستے) مکانات کی ہوگی۔ 50 سے 60 سال پرانی اور خستہ حال عمارتوں کی از سرِ نو تعمیر اور ری ڈیولپمنٹ کے لیے آر ڈبلیو اے کے تعاون سے خصوصی پالیسیاں وضع کی گئی ہیں۔
اس کے علاوہ 69 گاوں کو گرین ڈیولپمنٹ ایریا (جی ڈی اے) کے تحت رکھا گیا ہے۔ یہاں ماحول دوست، ادارہ جاتی اور سرسبز سرگرمیوں کے لیے خصوصی ترقیاتی قوانین نافذ ہوں گے۔
پبلک ٹرانسپورٹ کے شعبے میں دہلی میٹرو نیٹ ورک کو موجودہ 416 کلومیٹر سے بڑھا کر 695 کلومیٹر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے لیے 279 کلومیٹر اضافی نیٹ ورک تیار کیا جائے گا۔ توسیع مکمل ہونے کے بعد دہلی دنیا میں سب سے طویل میٹرو نیٹ ورک والا شہر بن سکتی ہے۔
ساتھ ہی نیشنل کیپٹل ریجن پلاننگ بورڈ کے تحت چھ نئی ریجنل ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (آر آر ٹی ایس) لائنوں کو فعال کرنے کا منصوبہ ہے۔ سرائے کالے خاں، آنند وہار اور کشمیری گیٹ کو جدید ملٹی ماڈل ٹرانزٹ حب کے طور پر ترقی اور توسیع دی جائے گی۔
ماسٹر پلان میں ترقیاتی ضوابط کو آسان بنانے پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ مختلف احاطہ جاتی زمروں کی تعداد 133 سے گھٹا کر 45 کر دی گئی ہے۔ ٹرانزٹ اورینٹڈ ڈیولپمنٹ میں پلاٹ کا کم سے کم سائز 10,000 مربع میٹر سے کم کر کے 2,000 مربع میٹر کر دیا گیا ہے۔ وہیں فلور ایریا ریشو (ایف اے آر) 400 سے بڑھا کر 500 کیا گیا ہے۔
بحالی کمپوننٹ اور منافع بخش فلور ایریا ریشو کو بھی 300 سے بڑھا کر 500 کیا گیا ہے۔ 3,000 مربع میٹر کے پلاٹ پر چھوٹے گروپ ہاوسنگ تعمیر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ہاسٹل کا ایف اے آر 120 سے بڑھا کر 200 کیا گیا ہے۔
اسکولوں کے لیے بھی ایف اے آر میں اضافہ کیا گیا ہے۔ چھٹی جماعت تک کے اسکولوں کا ایف اے آر 120 سے بڑھا کر 150 اور اس سے بڑے اسکولوں کے لیے 150 سے بڑھا کر 180 کیا گیا ہے۔ پری اسکول اور ارلی لرننگ سینٹر کی ڈینسٹی 100 سے بڑھا کر 150 کر دی گئی ہے۔ نرسنگ اور پیرامیڈیکل اداروں کا ایف اے آر 150 سے بڑھا کر 200 کیا گیا ہے۔ کالج، آئی ٹی آئی اور دیگر اداروں کو واحد ’ایجوکیشنل انسٹی ٹیوٹ‘ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔
ماسٹر پلان میں ترقی کے لیے ’نیگیٹو لسٹ‘ ماڈل اپنایا گیا ہے۔ اس کے تحت خطرناک صنعتوں، بڑے اسپتالوں، کمرشل مالز اور قبرستان جیسی مخصوص سرگرمیوں کو چھوڑ کر رہائشی، تجارتی اور صنعتی علاقوں میں مخلوط استعمال کی وسیع اجازت دی گئی ہے۔
30 میٹر یا اس سے زیادہ چوڑی سڑکوں سے متصل رہائشی پلاٹوں پر گراونڈ فلور یا پہلے نچلے فلور یعنی اسٹلٹ میں فیس کی ادائیگی کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں چلائی جا سکیں گی۔ لٹینز بنگلہ زون، لو ڈینسٹی ایریا اور ایئرپورٹ سیکورٹی ایریا کو چھوڑ کر شہر کے دیگر حصوں میں اونچائی سے متعلق پابندیوں کو کافی حد تک ختم کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس کے لیے بنیادی سہولیات، ایف اے آر اور کثافت جیسے معیارات کو مدِ نظر رکھا جائے گا۔
ماسٹر پلان میں ڈیٹا سینٹرز، مربوط صنعتی پارکس، کو-ورکنگ اسپیسز، اسٹارٹ اپ حبس اور کلاوڈ کچنز کو نئی معاشی سرگرمیوں کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ آٹوموبائل ورکشاپ کو بھی صنعتی سرگرمی کا درجہ دیا گیا ہے۔
صنعتی اور ویئر ہاوسنگ کے شعبوں کے لیے بھی متعدد التزامات کیے گئے ہیں۔ 500 مربع میٹر کے صنعتی پلاٹوں میں مزدوروں کے سستے مکانات کے لیے 15 فیصد اضافی ایف اے آر دیا جائے گا۔ ویئر ہاوسنگ اور انٹیگریٹڈ فریٹ کمپلیکس کے گراونڈ کوریج کو 70 فیصد تک بڑھایا گیا ہے۔ تھوک مارکیٹوں کا ایف اے آر 80 سے بڑھا کر 100 کیا گیا ہے۔
ان-سیٹو سلم ڈیولپمنٹ میں فی ہیکٹر 900 رہائشی یونٹس کی حد ختم کر دی گئی ہے۔ لو ڈینسٹی ایریا میں 2.5 ایکڑ سے چھوٹے فارم ہاوس کی اجازت نہیں ہوگی۔ ایسے علاقوں میں اندرونی سڑکوں کی چوڑائی 18 میٹر اور ماسٹر پلان کی سڑکوں کا رائٹ آف وے 45 میٹر ہوگا۔
ماسٹر پلان میں پیدل چلنے والوں اور سائیکل سواروں کے لیے بھی وسیع نیٹ ورک تیار کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ جمنا کے دونوں کناروں پر 52 کلومیٹر طویل بلاتعطل سائیکل ٹریک بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کے لیے 150 کلومیٹر طویل پاتھ کنیکٹرز تعمیر کیے جائیں گے۔
کچھ علاقوں کو ’24 آور سٹی‘ (24 گھنٹے فعال شہر) کے طور پر ترقی دینے کی تجویز ہے۔ ان علاقوں میں 24 گھنٹے میٹرو اور پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔
پارکنگ کے نظام کے لیے انٹیگریٹڈ پارکنگ پلان کا فریم ورک تیار کیا گیا ہے۔ ٹی او ڈی علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لیے فی 100 مربع میٹر پر دو کار پارکنگ کی جگہ اب ایک پارکنگ کا معیار رکھا گیا ہے۔ وہیں ان-سیٹو سلم ری ہیبلیٹیشن علاقوں میں پارکنگ کے معیار کو 0.5 ای سی ایس سے بڑھا کر 1 ای سی ایس کیا گیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر سردار ترنجیت سنگھ سندھو نے کہا کہ ماسٹر پلان 2047 وزیر اعظم نریندر مودی کے ’وکست بھارت 2047‘ کے وژن کے مطابق ’وکست دہلی‘ کی تعمیر کا طویل مدتی روڈ میپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے میں جامع اور پائیدار شہری ترقی کے ساتھ کاروبار میں آسانی (ایز آف ڈوئنگ بزنس) اور زندگی میں آسانی (ایز آف لیونگ) پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماسٹر پلان میں تقریباً 1,500 ہیکٹر تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کا التزام ہے۔ ان کی اصل شکل کو برقرار رکھتے ہوئے عجائب گھر، ہوٹل، دفاتر، کتب خانے اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے موافق از سرِ نو استعمال کی اجازت دینے پر زور دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ثقافتی جائیداد کے مالکان کے لیے ٹرانسفر ایبل ڈیولپمنٹ رائٹس (ٹی ڈی آر) اور مربوط ہیریٹیج نیز ثقافتی سرکٹ جیسے اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔ اس کے ذریعے دہلی کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اسے شہر کی معاشی اور ثقافتی سرگرمیوں سے جوڑنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن