
نئی دہلی، 21 اگست (ہ س):۔
نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ (نلسار) کے آخری سال کے قانون کے طلبہ کے انرولمنٹ پر پابندی سے متعلق بار کونسل آف انڈیا (بی سی آئی) کے چیئرمین منن مشرا کے سرکلر کے بعد ان کے استعفے کا مطالبہ تیز ہوگیا ہے۔ وکلا کے ایک گروپ نے جمعرات کو راو¿ز ایونیو واقع بی سی آئی دفتر کے باہر احتجاج کیا۔ آل انڈیا لائرز یونین (اے آئی ایل یو) نے بھی 21 اگست کو منن مشرا کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔
شاہدرہ بار ایسوسی ایشن کے سابق سکریٹری رمن شرما نے کہا کہ منن مشرا وکلا کے مفاد میں کام کرنے کے بجائے ان کے خلاف سرکلر جاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کسی وکیل کا بی سی آئی چیئرمین کے طور پر غیر معینہ مدت تک عہدے پر رہنا کیسے ممکن ہے۔
اے آئی ایل یو کے قومی جنرل سکریٹری اور سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پی وی سریندر ناتھ کے مطابق، 16 اگست کو کوچی میں منعقدہ نیشنل کونسل کے اجلاس میں منن مشرا کے من مانے اور غیر جمہوری فیصلے کی مذمت کی گئی۔ اے آئی ایل یو نے الزام لگایا کہ منن مشرا نے بی سی آئی کے وقار اور خودمختاری کو نقصان پہنچایا ہے اور ان کے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
13 اگست کو منن کمار مشرا کے دستخط سے جاری سرکلر میں نلسارکے آخری سال کے ان طلبہ کے بطور وکیل رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، جنہوں نے تقسیمِ اسناد کی تقریب میں چیف جسٹس کی شرکت کی مخالفت کی تھی۔ سرکلر کے سامنے آتے ہی اس کی شدید مخالفت شروع ہوگئی۔
کیرلم بار کونسل اور بی سی آئی کے رکن این منوج کمار کے علاوہ اے آئی ایل یو اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے بھی سرکلر کی مخالفت کرتے ہوئے اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ مخالفت بڑھنے کے بعد منن مشرا نے 13 اگست کا طلبہ کے رجسٹریشن پر پابندی کا حکم واپس لے لیا تھا۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھی اس معاملے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے بی سی آئی کے موقف کو غلط قرار دیا تھا۔ بعد ازاں منن مشرا نے طلبہ سے معذرت بھی کی، تاہم اب وکلا کی جانب سے ان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ