ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخرکرنے کا کیا اعلان،سفارتی کوششوں کو ملا موقع
واشنگٹن،02اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ویک اینڈ پر متوقع فوجی کارروائی فی الحال مؤخر کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران اور خطے کے متعدد ممالک کی درخواست پر سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے کیا
ٹرمپ ایران پر حملہ


واشنگٹن،02اگست(ہ س)۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف ویک اینڈ پر متوقع فوجی کارروائی فی الحال مؤخر کر دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ایران اور خطے کے متعدد ممالک کی درخواست پر سفارتی کوششوں کو موقع دینے کے لیے کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جلد ایک قابلِ قبول معاہدہ طے پا جاتا ہے تو امریکا ایران پر نیا حملہ نہیں کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے بھی اس سفارتی عمل کو موقع دینے کے لیے فوجی کارروائی مؤخر کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

ٹرمپ کے مطابق امریکا ہر قسم کی فوجی کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور اگر مذاکرات ناکام ہوئے یا معاہدہ طے نہ پا سکا تو واشنگٹن کے پاس کارروائی کا مکمل اختیار موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی ترجیح جنگ کے بجائے ایسا معاہدہ ہے جو خطے میں کشیدگی کم کرے اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کا قابلِ قبول حل فراہم کرے۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے کوئی نئی فوجی کارروائی کی تو ایران اس کا سخت جواب دے گا۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا، جس کے باعث پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی صدر کا یہ اعلان خطے میں فوری جنگ کے خدشات کو وقتی طور پر کم ضرور کرتا ہے، تاہم آئندہ چند روز میں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے پر پیش رفت ہی اس بحران کی سمت کا تعین کرے گی۔ مذاکرات کامیاب ہونے کی صورت میں فوجی تصادم ٹل سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کرنے کا امکان برقرار رہے گا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande