ماسکو کے وسطی علاقے میں ریستوران کے باہر زور دار دھماکہ، تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
ماسکو،02اگست(ہ س)۔روس کے دارالحکومت ماسکو کے وسطی علاقے میں واقع ایک ریستوران کے قریب ہونے والے زور دار دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ
ماسکو کے وسطی علاقے میں ریستوران کے باہر زور دار دھماکہ، تین افراد ہلاک، متعدد زخمی


ماسکو،02اگست(ہ س)۔روس کے دارالحکومت ماسکو کے وسطی علاقے میں واقع ایک ریستوران کے قریب ہونے والے زور دار دھماکے میں کم از کم تین افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دیں، جبکہ دھماکے کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔روسی سرکاری میڈیا کے مطابق دھماکہ ہفتے کی شب مقامی وقت کے مطابق تقریباً آٹھ بجے کدرنسکایا اسکوائر کے قریب پیش آیا۔ ابتدائی اطلاعات میں دھماکے کو ریستوران کے اندر کچن میں ہونے والا واقعہ قرار دیا گیا، تاہم بعد ازاں ریستوران انتظامیہ نے وضاحت کی کہ عمارت کے اندر تمام معاملات معمول کے مطابق تھے اور دھماکہ باہر پیش آیا۔

خبر رساں ادارے تاس کے مطابق تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ایک خاتون مبینہ طور پر دیسی ساختہ دھماکا خیز مواد اپنے ساتھ لے کر ریستوران میں داخل ہونے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن داخلی دروازے پر موجود سکیورٹی گارڈ نے اسے روک لیا۔ اسی دوران دھماکہ ہو گیا، جس کے نتیجے میں خاتون اور سکیورٹی گارڈ موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ ایک اور شخص بھی جان کی بازی ہار گیا اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

دھماکے کے فوراً بعد امدادی ٹیمیں، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ احتیاطی تدابیر کے طور پر اسکوائر کے اطراف کی سڑکیں عارضی طور پر بند کر دی گئیں، جبکہ قریب منعقد ہونے والی سائیکل سواروں کی شام کی اجتماعی سرگرمی بھی منسوخ کر دی گئی۔روسی خبر رساں ادارے آر آئی اے کی جانب سے جاری ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بھاری ہتھیاروں سے لیس سکیورٹی اہلکاروں نے پورے علاقے کا محاصرہ کر رکھا ہے اور عام شہریوں کی آمدورفت محدود کر دی گئی ہے۔

حکام نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں اور تاحال دھماکے کے محرکات یا ممکنہ ذمہ داروں کے بارے میں کوئی حتمی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande