
کاٹھمنڈو، 2 اگست(ہ س)۔ نیپال میں مختلف ہندو تنظیموں کی تحریک کے بعد حکومت اور ان تنظیموں کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے تحت آئندہ تین ماہ کے اندر نیپال کو ہندو راشٹر قرار دینے کے مطالبے پر تمام سیاسی جماعتوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ باضابطہ مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ معاہدے میں مذہبی مقامات کی نگرانی، غیر ملکی فنڈنگ کی جانچ، مذہبی جلوسوں سے متعلق ضوابط اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے جیسے متعدد نکات بھی شامل ہیں۔دھنوشا کے چیف ڈسٹرکٹ آفیسر پریم پرساد لوئیٹیل کے مطابق حکومت اس معاملے پر آئینی اور سیاسی عمل آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے تین ماہ کے اندر آل پارٹیز اور آل اسٹیک ہولڈرز مشاورت کا آغاز کرے گی۔ ہندو تنظیمیں طویل عرصے سے نیپال کو دوبارہ ہندو راشٹر قرار دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔معاہدے کے تحت تمام مذہبی جلوسوں میں ہتھیاروں کی نمائش پر پابندی عائد کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچا جا سکے۔اس کے علاوہ مندر،مساجد، مدارس، گرجا گھروں، گومپا (بودھ عبادت گاہوں) اور دیگر مذہبی مقامات پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کو بھی محدود کرنے پر اتفاق ہوا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق لاؤڈ اسپیکر کی آواز صرف متعلقہ عبادت گاہ کے احاطے تک محدود رکھی جائے گی۔معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ مندر، مساجد، مدارس، گرجا گھروں اور گومپا میں رہائش پذیر افراد کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، جبکہ ان اداروں سے وابستہ غیر ملکی شہریوں کی نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔حکومت نے مسلم کمیشن کی ضرورت اور افادیت کا ازسرنو جائزہ لینے پر بھی رضامندی ظاہر کی ہے۔ اگر جائزے کے بعد کمیشن کو غیر ضروری قرار دیا گیا تو اسے ختم کرنے کے لیے آئینی و قانونی کارروائی شروع کی جا سکتی ہے۔اسی طرح مساجد اور مدارس کو ملنے والی ملکی و غیر ملکی مالی امداد کی تفصیلی جانچ کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے تاکہ فنڈنگ کے ذرائع میں شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔معاہدے میں 2006-07 کے بعد جاری کی گئی نیپالی شہریتوں کا بھی جائزہ لینے کی شق شامل ہے، جس کے تحت حکومت اس عرصے میں دی گئی شہریتوں کی قانونی حیثیت کا ازسرنو جائزہ لے گی۔فریقین نے مذہبی منافرت یا فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے خلاف سخت قانونی کارروائی پر بھی اتفاق کیا ہے۔حکومت کی جانب سے اس معاہدے پر عمل درآمد کے طریقہ کار اور حتمی ٹائم لائن سے متعلق تفصیلی سرکاری بیان ابھی جاری ہونا باقی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan