
تہران،02اگست(ہ س)۔عباس عراقچی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی یا جارحیت کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام سے ٹیلیفونک رابطوں میں خطے کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، جبکہ دوسری جانب امریکی میڈیا میں ایران کے خلاف ممکنہ نئی کارروائی کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ایرانی حکومت کے مطابق وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان سے الگ الگ ٹیلیفونک گفتگو کی۔ ان رابطوں میں خطے کی موجودہ سکیورٹی صورتحال، امریکہ اور اسرائیل کی مبینہ پالیسیوں اور ممکنہ نتائج پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایران کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ اگر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کسی قسم کی جارحیت کی گئی یا خطے کا کوئی ملک ایسی کارروائی میں شریک ہوا تو تہران اس کا فیصلہ کن اور متناسب جواب دے گا۔ترک وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے بھی اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ان کی عباس عراقچی سے خطے کی تازہ صورتحال پر بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، تنازعات کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز نے امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کیا۔ رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ محمد بن سلمان نے ایران سے متعلق امریکی منصوبوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے وضاحت طلب کی۔یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ ایران کے خلاف ایک نئی اور بڑے پیمانے کی کارروائی پر غور کر رہا ہے، جس میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ادھر عراق میں بغداد میں قائم امریکی سفارت خانے اور اربیل میں امریکی قونصل خانے نے سکیورٹی الرٹ جاری کرتے ہوئے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ کسی بھی ہنگامی صورتحال اور ممکنہ انخلا کے لیے تیار رہیں۔حالیہ پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے، جبکہ مختلف ممالک سفارتی رابطوں کے ذریعے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan