حوثیوں نے باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنے کی خبروں کو مسترد کر دیا
صنعائ،02اگست(ہ س)۔یمن کے حوثی حکام نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے جہازوں کی
یمن حوثی باغی


صنعائ،02اگست(ہ س)۔یمن کے حوثی حکام نے آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں سے فیس وصول کرنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے جہازوں کی آمدورفت بدستور معمول کے مطابق اور بغیر کسی معاوضے کے جاری ہے، جبکہ جہاز رانی کمپنیوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ کسی غیر مجاز فرد یا ادارے کو کسی قسم کی ادائیگی نہ کریں۔

حوثیوں کے زیر انتظام ہیومینیٹیرین آپریشنز کوآرڈینیشن سینٹر (HOCC) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ باب المندب سے گزرنے والے جہازوں کے لیے محفوظ بحری راستے کی سہولت رضاکارانہ بنیادوں پر فراہم کی جا رہی ہے اور اس کے عوض کسی قسم کی فیس یا محصول وصول نہیں کیا جا رہا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر کوئی شخص، کمپنی یا ادارہ باب المندب سے محفوظ گزرنے کے نام پر رقم یا دیگر مالی مطالبات کرتا ہے تو اس کا حوثی انتظامیہ یا ایچ او سی سی سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ان کی نمائندگی نہیں کرتا۔حوثی حکام نے عالمی شپنگ کمپنیوں اور بحری آپریٹرز سے اپیل کی کہ وہ کسی بھی غیر مصدقہ ذریعے کو ادائیگی کرنے یا حساس معلومات فراہم کرنے سے گریز کریں اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی ہدایات پر عمل کریں۔یہ وضاحت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ایک غیر ملکی خبر رساں ادارے نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ حوثی قیادت آبنائے باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس عائد کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اس رپورٹ کے بعد عالمی شپنگ انڈسٹری میں خدشات پیدا ہوئے تھے کہ اگر ایسا فیصلہ کیا گیا تو بین الاقوامی تجارت اور بحری نقل و حمل کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

آبنائے باب المندب دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔ یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان تیل، گیس اور تجارتی سامان کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی یا رکاوٹ کے عالمی معیشت اور سپلائی چین پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔حوثیوں کی جانب سے جاری تازہ بیان کا مقصد بظاہر ان قیاس آرائیوں کا خاتمہ کرنا ہے جن میں باب المندب سے گزرنے والے جہازوں پر ممکنہ فیس یا محصول عائد کیے جانے کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ تاہم خطے میں جاری کشیدگی کے باعث اس اہم بحری گزرگاہ کی صورتحال پر عالمی برادری اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں بدستور گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande