دھرم تلا ہوٹل آتشزدگی کی تحقیقات کےلئے پانچ رکنی ایس آئی ٹی تشکیل، فائر بریگیڈ نے ازخود مقدمہ درج کرلیا
کولکاتا، 19 اگست (ہ س)۔ کولکاتا کے دھرم تلا علاقے میں مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ’شکھا اِن‘ ہوٹل میں منگل کی دیر رات پیش آنے والے بھیانک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کی قی
دھرم تلا ہوٹل آتشزدگی کی تحقیقات کےلئے پانچ رکنی ایس آئی ٹی تشکیل، فائر بریگیڈ نے ازخود مقدمہ درج کرلیا


کولکاتا، 19 اگست (ہ س)۔ کولکاتا کے دھرم تلا علاقے میں مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ’شکھا اِن‘ ہوٹل میں منگل کی دیر رات پیش آنے والے بھیانک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات کے لیے پانچ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے۔ ایس آئی ٹی کی قیادت ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ڈی سی پی) سطح کے افسر کریں گے۔ ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) کنال اگروال نے بدھ کو بتایا کہ ایس آئی ٹی کی تشکیل کے ساتھ ہی فائر بریگیڈ محکمہ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے میں ایف آئی آر درج کرلی ہے۔منگل کی دیر رات مرزا غالب اسٹریٹ پر واقع ہوٹل میں اچانک آگ بھڑک اٹھی تھی۔ جائے وقوعہ فائر بریگیڈ کے ہیڈکوارٹر کے قریب ہی واقع ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق پانچ منزلہ عمارت کی ہر منزل پر تین سے چار چھوٹے ہوٹل چل رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ تنگ جگہ میں قائم ان ہوٹلوں میں آمدورفت کے لیے بھی مناسب جگہ موجود نہیں تھی۔ تحقیقاتی افسران نے ہوٹل میں آگ بجھانے کے مناسب انتظامات نہ ہونے پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔پولیس کے مطابق تحقیقات میں آگ لگنے کی اصل وجہ، حادثے میں ہونے والی اموات اور کسی مجرمانہ سرگرمی کے امکان سمیت تمام پہلوؤں کو شامل کیا گیا ہے۔ انٹیلی جنس ڈپارٹمنٹ کو بھی تحقیقات میں شامل کرلیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے تین سے چار بنگلہ دیشی پاسپورٹ ملنے کی اطلاع کے بعد پولیس ان دستاویزات کی بھی جانچ کر رہی ہے۔ہوٹل میں فائر سیفٹی انتظامات، لائسنس اور انتظامی نگرانی کو لے کر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ یہاں دیگر ریاستوں کے علاوہ بیرون ملک سے آنے والے افراد بھی قیام کرتے تھے۔ ایسے میں ہوٹل کے لائسنس، فائر سیفٹی کے مقررہ معیارات اور باقاعدہ انتظامی معائنے سے متعلق پہلوؤں کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔دریں اثنا، شہری ترقی کی وزیر اگنی مترا پال نے بدھ کی صبح جائے وقوعہ کا دورہ کیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہوٹل میں صرف ایک ایئر کنڈیشنر لگانے کی اجازت حاصل کی گئی تھی، لیکن وہاں تقریباً 10 ایئر کنڈیشنر چلائے جا رہے تھے۔ انہوں نے بجلی تقسیم کرنے والی کمپنی سی ای ایس سی کی جانب سے ہوٹل کو بجلی کا کنکشن فراہم کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔وزیر نے کہا کہ اس بات کی بھی جانچ کی جائے گی کہ ہوٹل کے پاس فائر سیفٹی لائسنس اور تجارتی لائسنس موجود تھا یا نہیں۔اگنی مترا پال نے سابق میئر اور سابق شہری ترقی کے وزیر فردہاد حکیم کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پورے معاملے میں ذمہ داری طے کی جائے گی اور قصورواروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ وزیر اعلیٰ کو پیش کی جائے گی۔دوسری جانب فردہاد حکیم نے ان الزامات پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ہوٹل کے پاس فائر سیفٹی لائسنس تھا یا نہیں اور اس کا فائر سیفٹی آڈٹ ہوا تھا یا نہیں، اس کی جانچ کرنا فائر بریگیڈ محکمہ کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی میئر کے لیے شہر کے ہر ہوٹل کے تجارتی لائسنس کی ذاتی طور پر جانچ کرنا ممکن نہیں ہے۔ہوٹل میں آتشزدگی کے بعد فائر سیفٹی کے اصولوں کی پابندی، غیر قانونی طور پر چلنے والے اداروں اور متعلقہ محکموں کی نگرانی کے نظام پر ایک بار پھر سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے بعد حادثے کی اصل وجوہات، ممکنہ انتظامی غفلت اور ذمہ دار افراد کے بارے میں صورتحال واضح ہونے کی امید ہے۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande