
امیٹھی، 19 اگست (ہ س)۔ اتر پردیش میں امیٹھی ضلع کے مسافرخانہ تحصیل علاقے میں واقع بھنولی گاو¿ں میں بیت الخلا کی تعمیر کے لیے کی جا رہی کھدائی کے دوران دھات کے بنے 29 بھاری گولے ملنے سے گاو¿ں والوں میں تجسس اورہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ایک ساتھ اتنی بڑی تعداد میں دھات کے گولے ملنے کی اطلاع پر پولیس اور محکمہ محصولات کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچیں اور پورے واقعہ کی معلومات جمع کی۔
بھنولی رہائشی محمد اقبال بیت الخلا بنانے کے لیے اپنی زمین پر گڑھے کی کھدائی کروا رہے تھے۔ اسی دوران مزدوروں کو زمین کے اندر سے بھاری دھاتی اشیا نظر اائیں۔ مزدوروں نے اس کی اطلاع مکان مالک کو دی ۔ اس کے بعد، منگل کی صبح محمد اقبال نے مسافرخانہ پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت درج کرائی۔
اطلاع ملتے ہی انسپکٹر انچارج وویک کمار سنگھ پولیس فورس کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ تحقیقات کے دوران کل دھات کے 29گولے برآمد ہوئے۔ ہر گیند کا وزن تقریباً آٹھ سے دس کلو گرام بتایا جا رہا ہے۔گولوں کی ساخت اور ان میں موجود سوراخوں کو دیکھتے ہوئے شبہ ہو رہا ہے کہ یہ پرانے توپ کے گولے ہیں لیکن ابھی تک اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے کھدائی کی جگہ کو گھیرے میں لے لیا اور وہاں پولیس اہلکار تعینات کر دیئے ہیں۔ تعمیراتی کام بھی فی الحال روک دیا گیا ہے۔
کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے گاو¿ں والوں کو جائے وقوعہ سے دور رکھا گیا ہے۔ نائب تحصیلدار رام لکھن ورما کی قیادت میں محکمہ محصولات کی ایک ٹیم بھی جائے وقوعہ پر پہنچی۔ ٹیم نے بحفاظت تمام 29 برآمد شدہ گولوں کو بوریوں میں محفوظ کر لیے۔ انتظامیہ نے اس واقعہ کے بارے میں ہندوستان کے محکمہ آثار ، لکھنو¿ کو بھی آگاہ کر دیا ہے۔
ایس ڈی ایم مسافرخانہ نتیش راج نے بتایا کہ بھنولی میں کھدائی کے دوران تقریباً آٹھ سے دس کلو گرام وزنی گولے کی طرح نظر آنے والی29 دھات کی چیزیں ملی ہیں۔ اے ایس آئی کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی گئی ہے اور توقع ہے کہ ایک ٹیم گاﺅں میں اشیاءکی جانچ کے لیے پہنچے گی۔
اب تمام نظریں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کی تحقیقات پر لگی ہوئی ہیں۔ اس تحقیقات کے بعد ہی یہ معلوم ہو سکے گا کہ کیا زمین کے اندر پائے جانے والے یہ بھاری دھاتی گولے درحقیقت قدیم توپ کے گولے ہیں یا کسی دیگر استعمال کی اشیاءہیں۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد