
علی گڑھ, 19 اگست (ہ س)۔
جموں و کشمیر سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سات سال مکمل ہونے پر البلاغ ایجوکیشنل ویلفیئرسوسائٹی کے ڈاکٹر ذوالفقار اللہ صدیقی نے کہا ہے کہ اگست 2019 کا فیصلہ جموں و کشمیر کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا ہے۔ سات سال بعد اس کے اثرات زمین پر نظر آ رہے ہیں اور کشمیر میں ترقی و معمولاتِ زندگی کو نئی رفتار ملی ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار نے کہا کہ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر میں دہشت گردی اور علیحدگی پسندی کے خلاف سکیورٹی ایجنسیوں نے مؤثر کارروائی کی، جس کے نتیجے میں عام لوگوں کے درمیان تحفظ کا احساس مضبوط ہوا ہے اور طویل عرصے سے متاثر معمولاتِ زندگی بتدریج بحال ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کشمیر میں اسکول، کالج، بازار اور کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔ سیاحتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور ڈل جھیل سمیت اہم سیاحتی مقامات پر ملک و بیرونِ ملک سے بڑی تعداد میں سیاح پہنچ رہے ہیں۔ اس سے مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع کو بھی فروغ ملا ہے۔
انھوں نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں عوام کے درمیان بے چینی اور احتجاج کی آوازیں سامنے آ رہی ہیں۔ مہنگائی، بجلی، روزگار، بنیادی سہولیات اور سیاسی حقوق جیسے مسائل پر وہاں کے عوام پاکستان حکومت سے سوال کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ امن اور ترقی کسی بھی خطے کی پیش رفت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی کے سات سال بعد کشمیر میں ترقی، سیاحت اور معمولاتِ زندگی میں نظر آنے والی تبدیلیاں ایک نئی امید کی تصویر پیش کرتی ہیں۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ