
ایمسٹلوین، 18 اگست (ہ س)۔ عالمی ہاکی کی سب سے مشہور حریف ٹیمیں بھارت اور پاکستان ایک بار پھر آمنے سامنے ہوں گی۔ 19 اگست کو ہونے والے ایف آئی ایچ ہاکی ورلڈ کپ 2026 کے پول-ڈی کے اس اہم مقابلے میں دونوں ٹیموں کے لیے بہت بڑا مقابلہ ہے۔ بھارت کو سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہنے کے لیے کم از کم ڈرا کی ضرورت ہے، جبکہ پاکستان کو ہر حال میں جیت درج کرنی ہوگی۔
واگنر ہاکی اسٹیڈیم میں ہونے والا یہ مقابلہ صرف دو روایتی حریفوں کے درمیان وقار کی جنگ نہیں، بلکہ دونوں ٹیموں کی ورلڈ کپ مہم کا فیصلہ کرنے والا مقابلہ بھی ہے۔
بھارت نے اپنی مہم کا آغاز ویلز کے خلاف 1-3 کی جیت سے کیا تھا، لیکن دوسرے مقابلے میں اسے انگلینڈ کے ہاتھوں 4-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارت تین پوائنٹس کے ساتھ پول-ڈی میں دوسرے مقام پر ہے۔ وہیں پاکستان نے ویلز کے خلاف ڈرا کھیل کر ایک پوائنٹ حاصل کیا اور پھر انگلینڈ کے خلاف 4-1 سے شکست کھائی۔
ورلڈ کپ کے فارمیٹ کے مطابق، چاروں پولز سے سرفہرست دو ٹیمیں سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رہیں گی، جبکہ آخری دو مقامات پر رہنے والی ٹیموں کو درجہ بندی کے مقابلے کھیلنے ہوں گے۔
انگلینڈ اپنی دونوں جیت کے ساتھ ٹاپ دو میں جگہ پکی کر چکا ہے۔ ایسے میں دوسرے مقام کے لیے بھارت اور پاکستان کے علاوہ ویلز بھی دوڑ میں ہے۔ بھارت کو کم از کم ڈرا سے دوسرا مقام مل جائے گا، جبکہ پاکستان اور ویلز کو اپنی امیدیں برقرار رکھنے کے لیے جیت درج کرنا ضروری ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کے خلاف بھارت کا ریکارڈ انتہائی شاندار رہا ہے۔ 2016 کے جنوبی ایشیائی کھیلوں کے فائنل کے بعد دونوں ٹیمیں 19 مرتبہ آمنے سامنے آئی ہیں، جن میں بھارت نے 17 مقابلے جیتے ہیں اور دو میچ ڈرا رہے ہیں۔ یعنی پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے بھارت کو شکست نہیں دے سکا ہے۔
تاہم، بھارتی ہیڈ کوچ کریگ فُلٹن اس مقابلے میں تاریخ کے بجائے حال پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ہاکی انڈیا کے حوالے سے کہا، حریفانہ جذبہ ہمیشہ رہتا ہے اور یہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ بھارتی ٹیم کے قابل فخر کوچ کی حیثیت سے جب بھی آپ پاکستان کے خلاف کھیلتے ہیں تو ہر بار جیتنا چاہتے ہیں۔ یہ فطری بات ہے۔
بھارت کی امیدیں ایک بار پھر کپتان اور اسٹار ڈریگ فلکر ہرمن پریت سنگھ پر مرکوز ہوں گی۔ انہوں نے اب تک دو مقابلوں میں تین گول کیے ہیں اور ان کے تمام گول پنالٹی کارنر سے آئے ہیں۔ وہ بھارت کے حملے کی سب سے بڑی طاقتوں میں سے ایک رہے ہیں۔
بھارتی فارورڈ کھلاڑیوں نے گیند پر کنٹرول، موومنٹ اور مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت سے متاثر کیا ہے، لیکن ٹیم کو گول کرنے کے مواقع کو بہتر انداز میں بھنانا ہوگا۔ پاکستان کے خلاف ایک ایک موقع فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے کھاتے میں دو میچوں سے صرف ایک پوائنٹ ہے۔ ایسے میں اس کے لیے یہ مقابلہ مکمل طور پر کرو یا مرو کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ صرف جیت ہی اسے سیمی فائنل کی دوڑ میں برقرار رکھ سکتی ہے۔ ایسے میں پاکستانی ٹیم پوری جارحیت کے ساتھ میدان میں اتر سکتی ہے۔
بھارت کے سامنے چیلنج مقابلے کے جذباتی ماحول کے درمیان تحمل اور نظم و ضبط برقرار رکھنے کا ہوگا۔ وہیں پاکستان کے پاس حالیہ نتائج کی کہانی بدلنے اور اپنی مہم کو دوبارہ پٹری پر لانے کا موقع ہوگا۔
ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کی امیدیں اور دونوں ممالک کی رواتی مسابقت کے باعث بھارت-پاکستان کا یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کے سب سے سنسنی خیز مقابلوں میں سے ایک ہونے کی امید ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالواحد