
لداخ , 18 اگست (ہ س)۔ لداخ میں گزشتہ سال 24 ستمبر کو ہونے والے پرتشدد احتجاج کے دوران درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ اس معاملے پر لداخ کی تمام سیاسی جماعتیں، سماجی اور مذہبی تنظیمیں ایک آواز ہو کر مرکزی حکومت سے مقدمات واپس لینے کی اپیل کر رہی ہیں۔
سابق رکن پارلیمنٹ تھوپستان چھیوانگ اور لداخ خود مختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ کے سابق چیف ایگزیکٹو کونسلر ایڈوکیٹ تاشی گیلسن نے لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ سے ملاقات کرکے نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ دونوں رہنما لداخ کے معاملات پر وزارت داخلہ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ارکان بھی ہیں۔
ملاقات کے دوران وفد نے کہا کہ 24 ستمبر کے واقعات سے متعلق مقدمات کا ہمدردانہ بنیادوں پر جائزہ لے کر انہیں مرحلہ وار واپس لیا جائے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد نوجوانوں کو اب بھی پولیس تھانوں میں حاضری دینا پڑ رہی ہے، اس لیے اعتماد سازی کے لیے جلد فیصلہ ضروری ہے۔
رہنماؤں نے واقعے میں جاں بحق اور زخمی افراد کے اہل خانہ کو مالی معاوضہ اور دیگر ضروری امداد فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ اس کے علاوہ لیہ تشدد کے معاملے کی تحقیقات کے لیے قائم جسٹس بی ایس چوہان کمیٹی کی رپورٹ جلد پیش کرنے پر زور دیا گیا۔
وفد نے مرکزی حکومت سے لداخ کے مسائل پر اگلی میٹنگ کی تاریخ بھی جلد مقرر کرنے کی اپیل کی۔ رہنماؤں کے مطابق مجوزہ مذاکراتی عمل کے طریقہ کار پر متعلقہ فریقوں میں اصولی اتفاق رائے ہوچکا ہے اور اب اسے حتمی شکل دینے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ لداخ کے مسائل پر وزارت داخلہ کی اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی میٹنگ مئی میں ہوئی تھی، جس میں لداخ کے عوام کی خواہشات پوری کرنے پر اتفاق کیا گیا تھا، تاہم تقریباً تین ماہ گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں سرکاری مسودہ سامنے نہیں آیا۔ حال ہی میں لداخ کے رکن پارلیمنٹ محمد حنیفہ نے نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کرکے اس معاملے میں پیش رفت کا مطالبہ کیا تھا۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / محمد اصغر