کلکتہ ہائی کورٹ کا رتبرت بنرجی کو اگلے حکم تک اپوزیشن لیڈر برقرار رکھنے کا فیصلہ، دو ماہ میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت
کولکاتا، 18 اگست (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے ترنمول کانگریس کے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی پر فی الحال عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم عدالت نے
کلکتہ ہائی کورٹ کا رتبرت بنرجی کو اگلے حکم تک اپوزیشن لیڈر برقرار رکھنے کا فیصلہ، دو ماہ میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت


کولکاتا، 18 اگست (ہ س)۔ کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال اسمبلی کے اسپیکر کی جانب سے ترنمول کانگریس کے باغی رکن اسمبلی رتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کیے جانے کے فیصلے کے خلاف دائر عرضی پر فی الحال عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم عدالت نے کہا کہ اسپیکر کے لیے ضروری تھا کہ وہ دونوں فریقوں کو سننے کے بعد فیصلہ کرتے۔

جسٹس شمپا سرکار اور جسٹس اجے کمار گپتا کی ڈویژن بینچ نے سماعت کے دوران کہا کہ موجودہ صورت حال میں اسمبلی کی کارروائی کو منظم رکھنے کے لیے اسپیکر کے فیصلے پر عبوری روک لگانا مناسب نہیں ہوگا۔ عدالت نے معاملہ دوبارہ سنگل بینچ کو بھیجتے ہوئے اسے دو ماہ کے اندر نمٹانے کی ہدایت دی۔

یہ تنازع ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے عہدے کو لے کر سامنے آیا ہے۔ ترنمول قیادت نے اسپیکر کو مطلع کیا تھا کہ شوبھن دیو چٹوپادھیائے کو متفقہ طور پر اپوزیشن لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ تاہم اسپیکر نے اجلاس کی کارروائی سمیت مزید دستاویزات طلب کرتے ہوئے حتمی فیصلہ نہیں کیا تھا۔

اسی دوران ترنمول کانگریس کے بعض اراکین اسمبلی نے اسپیکر کے سامنے دعویٰ کیا کہ انہیں اکثریت کی حمایت حاصل ہے اور رتبرت بنرجی کو اپوزیشن لیڈر بنانے کی تجویز پیش کی۔ بعد میں اسپیکر نے بنرجی کو اپوزیشن لیڈر تسلیم کر لیا، جس کے خلاف شوبھن دیو چٹوپادھیائے نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔

درخواست گزار کی جانب سے دلیل دی گئی کہ اسپیکر نے پارٹی قیادت کے فیصلے کو نظر انداز کرتے ہوئے بعض اراکین اسمبلی کے عددی حمایت کے دعوے کی بنیاد پر فیصلہ کیا۔ عدالت نے بھی سوال اٹھایا کہ پہلے موصول ہونے والی چٹوپادھیائے کے نام کی تجویز زیر التوا کیوں رکھی گئی، جبکہ بعد میں بنرجی کی حمایت میں آنے والی تجویز پر کم وقت میں کارروائی کر دی گئی۔اسپیکر کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ایک ہی اپوزیشن جماعت کے اندر دو دعویدار سامنے آنا غیر معمولی صورت حال تھی، اس لیے یہ دیکھنا ضروری تھا کہ کس امیدوار کو اپوزیشن ارکان کی اکثریت حاصل ہے۔ اسپیکر کے مطابق ترنمول کانگریس کے 80 میں سے 58 اراکین اسمبلی نے رتبرت بنرجی کی حمایت کی تھی۔

دوسری جانب چٹوپادھیائے کے وکیل نے دلیل دی کہ سیاسی جماعت اور اس کی قانون ساز جماعت کو ایک ہی نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی کو اپنی سیاسی نظریات اور پالیسیوں کی نمائندگی کرنے والے اپوزیشن لیڈر کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔درخواست گزاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب اسپیکر کو رتبرت بنرجی کو ترنمول کانگریس سے نکالے جانے سے متعلق مبینہ خط موصول ہو چکا تھا تو انہیں اپوزیشن لیڈر کے طور پر تسلیم کیسے کیا گیا۔ہائی کورٹ نے فی الحال اسپیکر کے فیصلے پر روک لگانے سے انکار کرتے ہوئے معاملہ سنگل بینچ کو واپس بھیج دیا ہے۔ عدالت نے دو ماہ میں معاملہ نمٹانے کی ہدایت دی ہے۔ اس معاملے میں تفصیلی عدالتی حکم ابھی جاری ہونا باقی ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande