
حیدرآباد ،18 اگست (ہ س)۔
تلنگانہ کے وزیربرائے ریونیو پونگولیٹی سرینواس ریڈی نے سکریٹریٹ میں منعقدہ ایک جائزہ اجلاس کے دوران 22 اے زمینوں کے مسئلے پر مختلف اضلاع کے کلکٹروں اوراعلیٰ حکام پرشدید برہمی کا اظہارکیا۔ اطلاعات کے مطابق، وزیرنے میڑچل-ملکاجگیری،رنگاریڈی، سنگاریڈی اورحیدرآباد کے کلکٹروں سے ان زمینوں کے بارے میں وضاحت طلب کی جو ممنوعہ جائیدادوں کی فہرست میں شامل کردی گئی ہیں۔ انہوں نے ناراضگی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ جب زمینوں کوممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کا مسئلہ انتظامیہ کی جانب سے پیداہوا ہے تواس کا حل بھی متعلقہ حکام کوہی نکالنا چاہیے وزیرپونگولیٹی نے کہا کہ22 اے کا مسئلہ آپ ہی کی وجہ سے پیداہواہے،اس لیے اس کا حل بھی آپ ہی کوتلاش کرناہوگا۔” جائزہ اجلاس کے دوران وزیرنے ریونیواوررجسٹریشن محکموں میں بدعنوانی کے معاملات پر بھی سخت ردعمل ظاہرکیا۔ انہوں نے اے سی بی کے چھاپوں میں متعدد سرکاری عہدیداروں کے پکڑے جانے کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے متعلقہ حکام سے سوال کیا کہ کیا اس طرح کے واقعات شرمندگی کا باعث نہیں ہیں۔ رشوت خوری پرتنقید کرتے ہوئے وزیرنے ایک مثال دیتے ہوئے کہا کہ کھانا بھی ایک حد میں کھانا چاہیے، کیونکہ ضرورت سے زیادہ کھایا جائے تو وہ بھی زہربن سکتاہے۔ انہوں نے اس تبصرے کومبینہ طورپررشوت اوربدعنوانی سے جوڑتے ہوئے عہدیداروں کوغیرقانونی سرگرمیوں سے دوررہنے کی سخت تنبیہ کی۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ بعض انتظامی مسائل میں آئی اے ایس اور دیگر سرکاری عہدیداروں کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے، جبکہ بنیادی مسئلے کے ذمہ داروں کا تعین ضروری ہے۔
تلنگانہ میں 22 اے کے تحت زمینوں کو ممنوعہ فہرست میں شامل کیے جانے کا معاملہ کافی عرصے سے ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے، جس کے باعث متعدد زمین مالکان کو رجسٹریشن اور جائیداد کی خرید و فروخت کے معاملات میں مشکلات کا سامنا ہے۔
۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق