غیر مراٹھی باشندوں کا مراٹھی سیکھنا ثقافتی اتحاد کی علامت: ایکناتھ شندے
تھانے، 18 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا ہے کہ مراٹھی کسی پر مسلط کرنے کی زبان نہیں بلکہ محبت اورعقیدت سے اپنانے کی زبان ہے۔ غیرمراٹھی باشندوں کی جانب سے اپنی مرضی سے مراٹھی سیکھنا اور اپنانا مہاراشٹر کے ثقافتی اتحاد
Marathi Language Campaign


تھانے، 18 اگست (ہ س)۔ مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے نے کہا ہے کہ مراٹھی کسی پر مسلط کرنے کی زبان نہیں بلکہ محبت اورعقیدت سے اپنانے کی زبان ہے۔ غیرمراٹھی باشندوں کی جانب سے اپنی مرضی سے مراٹھی سیکھنا اور اپنانا مہاراشٹر کے ثقافتی اتحاد کی طاقت کی علامت ہے۔ وہ ریاستی حکومت کے محکمہ ٹرانسپورٹ، ریاستی مراٹھی ترقیاتی ادارے، ممبئی مراٹھی ساہتیہ سنگھ اور کونکن مراٹھی ساہتیہ پریشد کے مشترکہ زیر اہتمام ہندوریدے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے مراٹھی زبان نصاب مہم کی اختتامی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ ایکناتھ شندے نے کہا کہ یہ مہم کا اختتام نہیں بلکہ مراٹھی فخر کی ایک نئی شروعات ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میرا ہے اور مراٹھی میری رابطے کی زبان ہے، یہ ریاست کا نعرہ ہونا چاہیے۔ مراٹھی زبان سے محبت اور عقیدت ریاست کے لوگوں کو جوڑنے والی اہم طاقت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 105 دن تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران ایک لاکھ 25 ہزار رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں نے مراٹھی سیکھی اور امتحان پاس کیا۔ تمام کامیاب شرکا کو سرٹیفکیٹ بھی دیے گئے۔ مراٹھی کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے مراٹھی زبان سے متعلق معروف شعری مصرعوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ مراٹھی محض ایک زبان نہیں بلکہ شناخت، خود اعتمادی اور مادری زبان ہے۔ایکناتھ شندے نے ٹرانسپورٹ وزیر پرتاپ سرنائیک کی جانب سے قانون کا خوف پیدا کرنے کے بجائے محبت کے ذریعے مراٹھی سکھانے کے طریقے کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ زبان قانون کے ذریعے نہیں بلکہ محبت سے سیکھی جاتی ہے۔ انہوں نے مراٹھی سیکھنے والے افراد کا مذاق اڑانے کے بجائے ان سے مراٹھی میں بات کرنے کی بھی اپیل کی۔نائب وزیر اعلیٰ نے ہندوریدے سمراٹ بالاصاحب ٹھاکرے کے مراٹھی خود اعتمادی سے متعلق نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے مراٹھی کو کلاسیکی زبان کا درجہ دلانے، لاڈکی بہین یوجنا، لڑکیوں کی اعلیٰ تعلیم، خواتین کو ایس ٹی بسوں میں 50 فیصد رعایت، لیک لاڈکی یوجنا اور سرکاری ریکارڈ میں ماں کا نام شامل کرنے جیسے فیصلے کیے ہیں۔انہوں نے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے لیے قائم دھرمیویر آنند دگھے مہامنڈل کے لیے مختص 50 کروڑ روپے کے فنڈ کو مستقبل میں ایک ہزار کروڑ روپے تک بڑھانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر صنعت، اسٹارٹ اپ، جی ڈی پی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے شعبوں میں سرفہرست ہے۔ انہوں نے داؤوس میں تین لاکھ کروڑ اور چار لاکھ کروڑ روپے کے مفاہمت ناموں پر دستخط ہونے کا بھی ذکر کیا۔ایکناتھ شندے نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ عوامی پروگراموں میں پارلیمنٹ سے منظور شدہ سرکاری وندے ماترم ہی گایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان سے عقیدت اور مراٹھی کا احترام ہی مہاراشٹر کی حقیقی طاقت ہے۔تقریب میں صنعت کے وزیر ادے سامنت، ٹرانسپورٹ وزیر پرتاپ سرنائیک، رکن پارلیمنٹ نریش مہسکے، رکن اسمبلی رویندر پھاٹک، پدم شری مدھو منگیش کرنک، مراٹھی زبان کے سکریٹری کرن کلکرنی، ٹرانسپورٹ کمشنر راجیش نارویکر، ایڈیشنل ٹرانسپورٹ کمشنر روی گائیکواڑ، مہم کی کوآرڈینیٹر اور مشیر ڈاکٹر جیوتی ٹھاکرے سمیت دیگر عہدیدار اور افسران موجود تھے۔ بڑی تعداد میں رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں اور صحافیوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande