
لدھیانہ، 17 اگست (ہ س)۔
پنجاب میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی سمت میں ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے کھنہ پولیس نے پہلی بار فیشیل ریکگنیشن سسٹم کا کامیاب استعمال کیا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے پولیس نے اسرو گاو¿ں میں ریاستی سطح کی تقریب کے دوران ایک مشتبہ اسنیچر کی شناخت کرکے اسے حراست میں لے لیا۔
یہ جدید نظام کھنہ کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈاکٹر درپن آہلووالیہ کی پہل پر پولیس کی سائبر اور ٹیکنیکل ونگ نے ان ہاو¿س تیار کیا ہے۔ یہ نظام مشتبہ افراد، ہسٹری شیٹروں اور مطلوب مجرموں کی شناخت میں مدد کرے گا۔ کھنہ پولیس نے شہید کرنیل سنگھ کی یاد میں اسرو گاو¿ں میں منعقدہ ریاستی سطح کی تقریب کے دوران سکیورٹی انتظامات میں اس ٹیکنالوجی کا تجربہ کیا۔ اس مقصد کے لیے ایک ہائی ٹیک وین میں یہ نظام نصب کیا گیا تھا، جبکہ تقریب کے مقام پر سی سی ٹی وی کیمرے بھی لگائے گئے تھے۔ ہائی ٹیک وین سے لائیو کیمرہ فیڈ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کے ذریعے لوگوں کے چہروں کی مسلسل اسکیننگ کی گئی۔
ایس ایس پی ڈاکٹر درپن آہلووالیہ کے مطابق جب کسی مطلوب شخص کی تصویر اور متعلقہ معلومات نظام میں اپ لوڈ کی جاتی ہیں تو ایف آر ایس اس کے چہرے کی 512 ڈائمنشنل فیشل ایمبیڈنگ تیار کرتا ہے۔ اس کے بعد نظام لائیو کیمرہ فیڈ میں نظر آنے والے چہروں کو مسلسل اسکین کرتا رہتا ہے۔ اگر کسی شخص کا چہرہ سسٹم میں موجود ریکارڈ سے ممکنہ طور پر مطابقت رکھتا ہے تو فوری طور پر الرٹ جاری ہوتا ہے۔ اس الرٹ میں متعلقہ شخص کا نام، میچ کا فیصد، مقام اور شناخت کا وقت اور تاریخ دکھائی دیتی ہے۔
پولیس کے مطابق ہر الرٹ سسٹم کے ڈیش بورڈ پر خود بخود درج ہوجاتا ہے، جس کے بعد پولیس افسران موقع پر اس کی تصدیق کرکے مزید کارروائی کرسکتے ہیں۔ پولیس کے مطابق اسرو میں سکیورٹی انتظامات کے دوران نظام نے تقریب کے مقام کے قریب گھوم رہے ایک اسنیچر کی شناخت کی۔ الرٹ ملتے ہی پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔
ایس ایس پی آہلووالیہ نے بتایا کہ اس پہل کے بارے میں پنجاب کے ڈی جی پی گورو یادو کو بھی آگاہ کیا گیا ہے۔ ڈی جی پی نے سسٹم کی تعریف کرتے ہوئے پنجاب پولیس کی ٹیکنیکل سروسز ونگ کے سامنے اس کی پیشکش کو کہا ہے۔ اگر تکنیکی جائزے میں یہ سسٹممفید اور مو¿ثر پایا جاتا ہے تو مستقبل میں اسے پورے پنجاب میں نافذ کیا جاسکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ