
قرآن انسان کو ہدایت اختیار کرنے اور گمراہی سے بچنے کی دعوت دیتا ہے
نئی دہلی،17اگست (ہ س )۔
جماعت اسلامی ہند لکشمی نگر یونٹ کے زیرِ اہتمام للتا پارک سرکل میں آج درسِ قرآن کا انعقاد ایڈوکیٹ رئیس فاروقی صاحب کے چیمبر میں کیا گیا۔ پروگرام میں صلاح الدین صاحب نے سور? بقرہ کی آیت نمبر 14 سے 23 تک کی تلاوت، ترجمہ اور تشریح و تفسیر بیان کی۔
درس کے دوران صلاح الدین صاحب نے خصوصاً سور بقرہ کی آیات میں بیان کردہ منافقین کے کردار اور ان کی دوغلی روش کو تفصیل سے واضح کیا۔ تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ منافقین جب اہلِ ایمان سے ملتے تو ایمان کا دعویٰ کرتے، لیکن جب اپنے سرکش سرداروں اور گمراہ کرنے والوں کے پاس تنہائی میں جاتے تو کہتے کہ ہم تو تمہارے ہی ساتھ ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ محض مذاق کر رہے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ قرآن مجید نے ایسے سرکش اور گمراہ کرنے والے سرداروں کو شیاطین سے تعبیر کیا ہے۔ منافقین کی اس روش کے نتیجے میں ان کی ہدایت سے دوری اور گمراہی کو بیان کرتے ہوئے بتایا گیا کہ انہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مثال ایسے شخص سے بیان کی جس نے روشنی حاصل کرنے کے بعد اسے کھو دیا اور تاریکیوں میں بھٹکتا رہ گیا۔
درس میں منافقین کی مختلف مثالوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ان کے دلوں کی حالت ایسی ہو گئی کہ وہ حق کو دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوتے گئے۔ قرآن نے انہیں بہرے، گونگے اور اندھے قرار دیا، یعنی وہ حق بات سننے کے باوجود اسے قبول نہیں کرتے، حق بولنے سے گریز کرتے اور حق کا راستہ دیکھنے سے محروم رہتے ہیں۔
صلاح الدین صاحب نے اس کے بعد آیات میں تمام انسانوں کو دی گئی اللہ تعالیٰ کی دعوت کا ذکر کیا کہ اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ قرآن انسان کو اللہ کی نعمتوں، اس کی قدرت اور تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے اور اسی غور و فکر کے ذریعے انسان کو اپنے حقیقی رب کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔
قرآن کے اعجاز اور چیلنج کا تذکرہ، اہلِ ایمان کو ہدایت پر ثابت قدم رہنے کی تلقین
درس کے دوران سورہبقرہ کی آیت 23 کی تشریح کرتے ہوئے صلاح الدین صاحب نے قرآن مجید کے اس عظیم چیلنج کو بھی واضح کیا کہ اگر لوگوں کو اس کلام کے بارے میں شک ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے حضرت محمد مصطفیٰ پر نازل فرمایا ہے تو وہ اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر پیش کر دیں اور اس کام کے لیے اللہ کے سوا اپنے تمام مددگاروں کو بلا لیں، اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ قرآن مجید نے واضح طور پر اعلان فرمایا کہ انسان اس چیلنج کو کبھی پورا نہیں کر سکتا۔ یہ قرآن کے الٰہی کلام ہونے کی ایک روشن دلیل ہے اور اس کا مقابلہ انسان کی طاقت سے ممکن نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے قرآن کی دعوت، اس کے اعجاز اور انسان کے لیے اس میں موجود ہدایت پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
صلاح الدین صاحب نے درس کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ قرآن مجید صرف تلاوت کی کتاب نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا مکمل دستور اور انسان کی حقیقی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھے، اس کی تعلیمات پر غور کرے اور اپنی عملی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرے۔ منافقت، دوغلے پن اور حق سے روگردانی سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اتباع ہی دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ ہے۔
درسِ قرآن کے اس پروگرام میں افتخارعلی ہاشمی صاحب،اطہر حسین انصاری صاحب، فلاح الدین فلاحی صاحب، مفتی ذیشان قاسمی، مسرور عالم، تعمیر صاحب۔ ثنائ اللہ فاروقی سمیت متعدد افراد نے شرکت کی۔ پروگرام کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais