
نئی دہلی، 17 اگست(ہ س )۔
دہلی کے کلیان پوری میں اتوار کی صبح سرِعام چاقو سے حملہ کرکے صفائی کارکن کے قتل کے خلاف لوگوں کا دھرنا پیر کے روز بھی جاری ہے۔ متوفی خاندان کو انصاف دلانے کے لیے عام آدمی پارٹی کے کونڈلی سے رکن اسمبلی کلدیپ کمار بھی لوگوں کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ لیکن ابھی تک ریکھا گپتا حکومت کی جانب سے کوئی نمائندہ ان سے ملاقات کرنے نہیں پہنچا ہے۔ اس سلسلے میں آپ کے دہلی پردیش صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ صفائی کارکن کے دن دہاڑے قتل کے خلاف ہزاروں لوگ دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ لوگوں کا مطالبہ ہے کہ وزیراعلیٰ ملاقات کے لیے آئیں اور خاندان کو ایک کروڑ روپے کی مالی مدد دی جائے، لیکن حکومت خاموش ہے۔ دوسری جانب دھرنے پر بیٹھے کونڈلی سے آپ رکن اسمبلی کلدیپ کمار نے کہا کہ ہم لال بہادر شاستری اسپتال کے اندر موجود ہیں۔ یہ اتوار کی صبح سات بجے کا واقعہ ہے، جب صفائی کا کام کرنے والے ہمارے بھائی انیل کو دہلی میں چاقو مار کر قتل کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد سے ہزاروں صفائی کارکن یہاں دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ پوری رات یہاں بیٹھے رہنے کے بعد اب اگلا دن ہو چکا ہے، لیکن ابھی تک انیل کے قاتل کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ کلدیپ کمار نے بتایا کہ ابھی تک متاثرہ خاندان سے ملاقات کے لیے حکومت کا کوئی نمائندہ بھی نہیں آیا ہے۔ دہلی میں ریکھا گپتا کی ایسی حکومت ہے جو صفائی کارکنوں کے درد کو نہیں سمجھتی۔ یہ حکومت دلت سماج کو کیڑے مکوڑے سمجھتی ہے اور سوچتی ہے کہ جس طرح کیڑے مکوڑے مرتے رہتے ہیں، اسی طرح یہ لوگ بھی مرتے رہیں۔ آج دہلی میں قانون و انتظام کی صورتحال بدحال ہو چکی ہے اور حکومت نے دہلی کے حالات انتہائی خراب کر دیے ہیں۔ کلدیپ کمار نے بتایا کہ لال بہادر شاستری اسپتال کے باہر ہزاروں کی تعداد میں لوگ کھڑے ہیں۔ میں تمام صفائی کارکن بھائیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ دہلی کے جس بھی کونے میں کام کرتے ہیں، اپنا کام بند کر دیں اور ہڑتال کریں۔ تمام لوگ متحد ہو کر اپنے بھائی انیل کے لیے انصاف اور حقِ انصاف کا مطالبہ کریں۔ اس گونگی بہری ریکھا گپتا حکومت کے کانوں تک اپنی آواز پہنچانے کا کام کریں۔ تمام لوگ ہمارا ساتھ دیں اور لال بہادر شاستری اسپتال پہنچیں۔کلدیپ کمار نے کہا کہ جب تک صفائی کارکن انیل کو انصاف نہیں ملتا، یہ جدوجہد جاری رہے گی۔ دن دہاڑے ہونے والا ان کا قتل دہلی کی قانون و انتظام کی صورتحال اور پولیس کی ناکامی پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اگر حکومت نے فوری کارروائی نہیں کی تو پوری دہلی میں چکہ جام ہوگا۔ اگر دہلی کے عوام کو سڑکوں پر اترنے کے لیے مجبور ہونا پڑا تو اس کی پوری ذمہ داری بی جے پی حکومت کی ہوگی۔ کلدیپ کمار نے کہا کہ حکومت کتنے لوگوں کو کام سے ہٹائے گی اور اگر ہٹا بھی دے گی تو صفائی کا کام کس سے کروائے گی؟ اگر نوکری جائے گی تو ہم سب کی ایک ساتھ جائے گی۔ جب مجھے دہلی اسمبلی سے باہر نکالا جا سکتا ہے تو آپ کی بھی نوکری جا سکتی ہے۔ حکومت اور انتظامیہ کو لگتا ہے کہ ہم صفائی کارکن صرف کچرا ہیں، اس لیے ہمیں باہر نکال دو، لیکن اگر آپ ہمیں اسمبلی یا کام سے باہر نکالو گے تو ہم سڑک پر بیٹھیں گے۔ ایک بے روزگار اور خالی آدمی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ ابھی تو ہمارے پاس نوکری ہے، اس لیے ہم صبح جاتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں، لیکن جب ہمیں نوکری سے ہٹا دیا جائے گا تو ہم پورے 12 گھنٹے سڑک پر ہی بیٹھیں گے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ کون کچرا اٹھاتا ہے؟ کلدیپ کمار نے کہا کہ پولیس چاہتی ہے کہ متوفی انیل کا پوسٹ مارٹم کرا کر معاملے کو رفع دفع کر دیا جائے، لیکن ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعلیٰ ریکھا گپتا کے پاس ابھی بھی وقت ہے۔ حکومت بنانے والے ہم ہیں، اس لیے ہم سڑکوں کی صفائی کرنے کے ساتھ ساتھ لیڈروں کے سر پر چڑھے اقتدار کے بھوت کو اتارنا بھی جانتے ہیں۔ اتنے سارے لوگوں کو متوفی انیل کے خاندان کی حمایت میں کھڑے دیکھ کر میرا سینہ فخر سے چوڑا ہو رہا ہے۔ متاثرہ والدین کو بھی محسوس ہو رہا ہے کہ ان کے بیٹے کی جگہ اتنے سارے انیل ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ہم انصاف لیے بغیر یہاں سے نہیں اٹھیں گے۔ کلدیپ کمار نے کہا کہ ہماری تین واضح مانگیں ہیں۔پہلی مانگ یہ ہے کہ قتل کے ملزم کو گرفتار کرکے فاسٹ ٹریک عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور سب سے پہلے اسے پھانسی دی جائے۔ دوسری مانگ یہ ہے کہ خاندان کو ایک کروڑ روپے کا معاوضہ دیا جائے، کیونکہ انیل ہی گھر کا کمانے والا تھا اور اس کا قتل اس حکومت اور نظام کی وجہ سے ہوا ہے۔ تیسری مانگ یہ ہے کہ خاندان کے ایک فرد کو مستقل سرکاری ملازمت دی جائے، کیونکہ عارضی ملازمین کی پوری عمر عارضی ملازمت کرتے کرتے گزر جاتی ہے اور وہ اسی عارضی ملازمت کی حالت میں مر جاتے ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais