
دہرادون، 14 اگست(ہ س)۔ اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں پیپل کوٹی کے قریب مایاپور میں ٹی ایچ ڈی سی کی زیر تعمیر سرنگ میں جمعرات کی شام پانی رسنے اور ملبہ گرنے کے بعد پیش آئے حادثے میں چھ مزدوروں کی موت ہو گئی، جبکہ 14 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ دو مزدوروں کے سرنگ میں پھنسے ہونے کی اطلاع ہے اور ان کی تلاش و بچاؤ کے لیے امدادی کارروائی جاری ہے۔ریاستی ایمرجنسی آپریشن سینٹر کی رات 11 بجے کی رپورٹ کے مطابق سرنگ میں پھنسے 22 مزدوروں میں سے 20 کو باہر نکال لیا گیا ہے۔ ان میں چھ کی موت ہو چکی ہے، جبکہ 14 زخمی ہیں۔ سرنگ میں پھنسے باقی افراد کی تلاش اور انہیں بحفاظت باہر نکالنے کے لیے راحت اور بچاؤ کا آپریشن مسلسل جاری ہے۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، فائر سروس اور طبی ٹیموں کو فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کیا گیا۔ چمولی کے ضلع مجسٹریٹ گورو کمار نے موقع پر پہنچ کر بچاؤ کارروائی کی نگرانی کی۔ ٹی ایچ ڈی سی کی مشینری اور افرادی قوت کو بھی ریسکیو آپریشن میں شامل کیا گیا ہے۔زخمی مزدوروں کو ضلع اسپتال گوپیشور میں داخل کرایا گیا ہے۔ ان کی حالت کو دیکھتے ہوئے بیس اسپتال سری نگر اور ایمس رشی کیش کو بھی الرٹ موڈ پر رکھا گیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ضرورت پڑنے پر شدید زخمیوں کو اعلیٰ طبی مراکز میں منتقل کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی دیر رات ریاستی ڈیزاسٹر آپریشن سینٹر پہنچے اور راحت و بچاؤ آپریشن کا جائزہ لیا۔ انہوں نے افسران کو ہدایت دی کہ سرنگ میں پھنسے ہر شخص کو بحفاظت باہر نکالنا اولین ترجیح ہونی چاہیے اور ریسکیو آپریشن میں کسی بھی طرح کی غفلت نہیں برتی جانی چاہیے۔وزیر اعلیٰ نے ریسکیو کیے گئے مزدوروں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات چیت کی، ان کا حال چال دریافت کیا اور ان کا حوصلہ بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت متاثرہ مزدوروں اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑی ہے۔ انہوں نے علاج، ادویات، کھانے اور رہائش سمیت تمام ضروری انتظامات یقینی بنانے کی ہدایات دیں۔ دھامی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر شدید زخمی مزدوروں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایمس یا دیگر اعلیٰ طبی اداروں میں منتقل کیا جائے۔وزیر اعلیٰ نے چمولی کے ضلع مجسٹریٹ سے فون پر بات کر کے ریسکیو آپریشن کی پیش رفت اور طبی انتظامات کی معلومات حاصل کیں۔ ریاستی ڈیزاسٹر آپریشن سینٹر میں منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس میں چیف سیکریٹری آنند بردھن، سیکریٹری ونود کمار سمن اور متعلقہ محکموں کے سینئر افسران موجود رہے۔گورنر لیفٹیننٹ جنرل گرمیت سنگھ (ریٹائرڈ) نے بھی پیپل کوٹی میں سرنگ میں پانی اور ملبہ آنے کے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ سیکریٹری سے بات کر کے واقعے اور راحت و بچاؤ کے کاموں کی معلومات حاصل کیں۔ گورنر نے کہا کہ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، پولیس اور مقامی انتظامیہ سمیت تمام متعلقہ ایجنسیاں پوری مستعدی کے ساتھ جنگی پیمانے پر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ انہوں نے سرنگ میں پھنسے افراد کو جلد از جلد بحفاظت باہر نکالنے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کی ہدایات دیں۔وزیر اعلیٰ دھامی نے متاثرہ مزدوروں کے سلسلے میں جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ انہوں نے دونوں ریاستوں کو راحت و بچاؤ آپریشن کی صورتحال سے آگاہ کیا اور متاثرہ مزدوروں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔دھامی نے کہا کہ ریسکیو کیے گئے مزدوروں کو فوری طبی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور ان کے علاج سمیت دیگر تمام ضروریات کا مکمل خیال رکھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مزدوروں کی حفاظت اور انسانی زندگی کا تحفظ ریاستی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔جائے حادثہ پر ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے علاوہ ایس ڈی آر ایف، این ڈی آر ایف، آئی ٹی بی پی، فائر سروس اور طبی ٹیمیں تعینات ہیں۔ بچاؤ آپریشن میں بھاری مشینری کا بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سرنگ کے اندر کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے پھنسے افراد تک پہنچنے اور انہیں محفوظ طریقے سے باہر نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ٹی ایچ ڈی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر (پروجیکٹس) کمار شرد کے مطابق، چمولی ضلع کے پیپل کوٹی میں وشنو گڑھ ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ کی زیر تعمیر ٹیل ریس سرنگ میں جمعرات کی شام اچانک پانی کا بہاؤ بڑھ گیا۔ اس کے نتیجے میں سرنگ کے اندر ایک کیویٹی بن گئی اور بعد میں ملبہ گرنے سے وہاں کام کر رہے تقریباً 22 مزدور پھنس گئے۔ریاستی ڈیزاسٹر آپریشن سینٹر نے حادثے سے متعلق معلومات اور مدد کے لیے ہیلپ لائن نمبر جاری کیے ہیں:1070،0135-271033482188 67005
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan