
نئی دہلی، 14 اگست (ہ س)۔ نیرج چوپڑا نے ٹوکیو اولمپکس میں87 میٹر سے زیادہ دوری تک نیزہ پھینک کر سونے کا تمغہ جیتا تو انہوں نے صرف تاریخ نہیں رقم کی بلکہ ہندوستانی ایتھلیٹکس میںنیزہ پھینکنے کے کھیل میں انقلاب برپا کردیا۔ ان کی کامیابی سے متاثر ہو کر ملک میں کئی نوجوان نیزہ پھینکنے والے کھلاڑی کے طور پر ابھرے ہیں۔
اب، جھارکھنڈ کی انڈر 17 قومی ریکارڈ ہولڈر شلپا کماری خواتین کے نیزہ پھینک مقابلے میں ہندوستان کی نئی امید بن کر ابھری ہیں۔ جھارکھنڈ کے ایک قبائلی ضلع گملا کے ایک دور دراز گاو¿ں کی رہائشی شلپا کا تعلق کسانوں کے خاندان سے ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تربیت اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (سائی) کے رانچی مرکز میں حاصل کی اور فی الحال خواتین کے انڈر 17نیزہ پھینک مقابلے میں قومی ریکارڈ ہولڈر ہیں۔
نیرج چوپڑا کی ٹوکیو اولمپکس میں کامیابی شلپا کے لیے زندگی بدل دینے والا لمحہ ثابت ہوئی۔ انہوں نے اپنے گاؤں کے چوپال میں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ ٹیلی ویژن پر نیرج کو گولڈ میڈل جیتتے دیکھا۔ شلپا نے سائی میڈیا کو بتایا، ”میں نے نیرج چوپڑا کو اولمپکس میں سونے کا تمغہ جیتتے دیکھا۔“
اس نے مجھےنیزہ پھینکنے کی ترغیب دی۔ میں نیرج سر کی طرح بننا چاہتی ہوں اور اولمپک میڈل جیتنا چاہتی ہوں۔ انہوں نے کہا”جب میں نے اپنے گاؤں میں لوگوں کو نیرج چوپڑا کی جیت کا جشن مناتے ہوئے دیکھا تو میں نے فیصلہ کیا کہ نیزہ پھینکمیں اولمپک تمغہ جیتنا میری زندگی کا مقصد ہوگا۔“
رانچی کے سائی سینٹر میں ایتھلیٹکس ٹرائل کے بعد شلپا کا خواب پورا ہوگیا۔ ان کے کوچ بنود سنگھ کو تین سال قبل اسی ٹرائل کے دوران ان کی صلاحیتوں کا پتہچلا۔ بنود سنگھ نے کہا، ”جب میں نے تین سال پہلے ہمارے سائی سینٹر میں ایک ٹرائل کے دوران اسے پہلی بار دیکھا تو اس کی فطری صلاحیتوں نے مجھے متاثر کیا۔ وہ اس وقت اس کھیل میں بالکل نئی تھی، لیکن میں نے اسے اس کی نیزہ پھینکنے کی مضبوط صلاحیت کی وجہ سے منتخب کیا۔ میں اس کی صلاحیت دیکھ سکتا تھا اورمجھے لگا کہ اس کے پاس مستقبل کے لیے بہت اچھا ہنر ہے۔“
انہوں نے کہا کہ ” رانچی کے سائی سینٹر میں تربیت شروع کرنے کے بعد شلپا نے زبردست ترقی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس نے بہت تیزی سے بہتری کی ہے اور اب وہ خواتین کے نیزہ پھینک میں ہندوستان کی سب سے زیادہ باصلاحیت ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں میں سے ایک ہے۔“
کوچ نے شلپا کے خاندان کی مالی حالت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، ”اس کے والدین کسان ہیں اور ان کے پاس شلپا کو اس کے اتھلیٹک کیریئر کے لیے ضروری مدد فراہم کرنے کے ذرائع نہیں ہیں۔ سائی کی طرف سے فراہم کردہ سہولیات، تربیت، سازوسامان، غذائیت وغیرہ نے مجھے ایک را ٹیلنٹ کو چمکتے ہیرے میں تبدیل کرنے میں مدد کی ہے۔“
55.62میٹر کی تھرو کے ساتھ سرخیوں میں آئیں
سائی میں تریب کا نتیجہ 2025میں سامنے آیا، جب شلپا نے 69 ویں نیشنل اسکول گیمز میں55.62میٹر نیزہ پھینکنے کے ساتھ خواتین کا انڈر 17 قومی ریکارڈ قائم کیا۔ ان کی 55.62 میٹر کی کارکردگی ہندوستان کے انڈر 18-قومی ریکارڈ 55.19سے بھی بہتر تھی۔ یہ ریکارڈ 2013 میں ہریانہ کی دیپیکا کے ذریعہ قائم کیا گیاتھا ۔حالانکہ ایتھلیٹکس فیڈریشن آف انڈیا (اے ایف آئی) نے شلپا کے تھرو کو باضابطہ ریکارڈ کے طور پر تسلیم نہیں کیا، کیونکہ یہ ایونٹ عالمی ایتھلیٹکس کے ذریعہ سرکاری طور پر منظور شدہ ایونٹ نہیں تھا۔
شلپا کا آفیشل ذاتی بہترین 2025 جونیئر نیشنل چیمپئن شپ میں آیا، جہاں وہ 45.90 میٹر کے تھرو کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہی۔ یہ ان کی سابقہ آفیشل بہترین کارکردگی سے تقریباً 10 میٹر کی بہتری تھی۔ شلپا نے کہا، ”ایک کھلاڑی کے طور پر، میری واحد توجہ اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنا ہے۔ اگر فیڈریشن نے میرے تھرو کو باضابطہ طور پر رجسٹر نہیں کیا تو میں اپنے اگلے تسلیم شدہ مقابلے میں اس سے بھی بہتر نیزہ پھینکنے کی کوشش کروں گی۔“
کوچ کو یقین ہے کہ شلپا دوبارہ ریکارڈ بنائیں گی
بنود سنگھ کو پورا یقین ہے کہ شلپا سینئر لیول تک پہنچنے کے بعد بھی اپنی متاثر کن کارکردگی کو جاری رکھیں گی۔ انہوں نے کہا،”شلپا کو اس بات کی فکر نہیں ہے کہ آیا ان کی بہترین کارکردگی کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جاتا ہے یا نہیں، ہم جانتے ہیں کہ وہ کس قابلیت کی حامل ہے۔ وہ دوبارہ وہ کارکردگی حاصل کریں گی۔“
یوتھ اولمپکس میں تمغہ حاصل کرنے کے لیے، شلپا کی نظریں فی الحال 31 اکتوبر سے 13 نومبر 2026 تک سینیگال کے شہر ڈاکار میں منعقد ہونے والے سمر یوتھ اولمپکس پر مرکوز ہیں۔ شلپا نے کہا”فی الحال، میرا پہلا مقصد یوتھ اولمپکس میں پوڈیم فنش کرنا ہے۔ لیکن میرا حتمی مقصد اولمپکس جیتنا ہے۔“ اس پراعتماد کھلاڑی نے اپنے خواب کو نیرج چوپڑا سے جوڑتے ہوئے کہا،”میں اپنا اولمپک تمغہ نیرج سر کو وقف کروں گا۔“
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد